پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان پس پردہ رابطوں اور مذاکرات سے متعلق چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں اور مختلف سیاسی رہنماؤں اور سینیئر تجزیہ کاروں کے حالیہ بیانات سے عندیہ ملتا ہے کہ اگرچہ باضابطہ طور پر کسی پیشرفت کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن ماحول میں نسبتاً نرمی ضرور محسوس کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار تو حکومت بھی تیار، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

پی ٹی آئی کے رہنما شاہد خٹک نے واضح کیا ہے کہ پارٹی قیادت کو عمران خان تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر نے پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات نہیں کی ہے، اس وقت نہ وکلا کو باقاعدہ ملاقات کی اجازت ہے، نہ سیاسی رہنماؤں کو اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر یا قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کو رسائی میسر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی قیادت کو اپنے چیئرمین کی صحت اور حالات سے متعلق براہ راست آگاہی نہیں تو مختلف بیانات پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

شاہد خٹک کے مطابق بشریٰ بی بی کی ملاقات کے بعد جو پیغام سامنے آیا وہ تشویشناک تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے حالات 10 فیصد بھی ٹھیک نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جب تک براہ راست رسائی ممکن نہیں قیاس آرائیاں ختم نہیں ہو سکتیں۔

مزید پڑھیے: کوئی بامعنی مذاکرات کرنا چاہے گا تو عمران خان سے مشاورت کریں گے، پی ٹی آئی کا حکومتی پیشکش پر جواب

شاہد خٹک نے کہا کہ اگر مذاکرات کا ماحول بنتا ہے تو حتمی منظوری عمران خان ہی دیں گے کیونکہ جس طرح مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتیں بالکل اسی طرح پی ٹی آئی بھی عمران خان کی منظوری کے بغیر کوئی اہم قدم نہیں اٹھاسکتی۔

رعایت ملنے سے عمران خان کو اب تک حاصل سیاسی فائدہ ضائع ہوسکتا ہے، ابصار عالم

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ پی ٹی آئی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر بات چیت جاری ہے یا کم از کم ماحول کو نرم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ابصار عالم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے جو اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب پی ٹی آئی یا عمران خان کے لیے کچھ نرمیاں پیدا ہو جائیں گی اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز ان کا علاج کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان مستقل طور پر اسپتال منتقل ہونا نہیں چاہتے وہ سمجھتے ہیں کہ جو 3 سال کے قریب جیل میں رہ کر انہوں نے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے مستقل طور پر اسپتال منتقل ہو جانے سے یہ فائدہ ضائع ہو جائے گا۔

’ڈیل ہو رہی ہے لیکن شرائط فائنل نہیں‘

ابصار عالم نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے رویے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چیزیں بہتری کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی عشق عمران میں مر مٹنے کی باتیں کرتے تھے لیکن ہم نے دیکھا کہ وہ ایپکس کمیٹی میں فوج کے ساتھ بھی بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں: 5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوگا، خواجہ آصف

ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نے بھی دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اس وقت دونوں اطراف ایسے لوگ موجود ہیں جو سیاسی استحکام کی کوششوں کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے جن میں شاندانہ گلزار نمبر سرفہرست ہیں کیوں کہ وہ جس طرح کے بیانات دیتی ہیں اور گڑے مردے اٹھاتی ہیں ان کی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

ابصار عالم نے کہا کہ ڈیل ہو رہی ہے لیکن شرائط ابھی فائنل نہیں ہوئی ہیں۔

مشکلات کم کرنے کا واحد حل درمیانی راستے پر اتفاق ہے، منصور علی خان

سینیئر صحافی منصور علی خان نے کہا کہ عمران خان کی مشکلات کم کرنے کا ایک ہی عملی راستہ نظر آتا ہے کہ فریقین کے درمیان کسی درمیانی راستے پر اتفاق ہو۔

ان کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات میں کمی محسوس ہو رہی ہے جو ممکنہ مفاہمت کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے۔

منصور علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ معافی کا مطالبہ مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے بقول عمران خان کی جانب سے 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے اور اسٹیبلشمنٹ سے معافی دینے کی امید غیر حقیقت پسندانہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جیل میں طبی غفلت کا الزام: عمران خان کی آنکھ متاثر، پی ٹی آئی کا قانونی کارروائی کا اعلان

ان کے مطابق سیاسی تنازعے کا حل صرف بیچ کا راستہ نکالنے میں ہے ورنہ نقصان پاکستان اور اس کی سیاست کو ہوگا۔

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق حالیہ دنوں میں سیاسی درجہ حرارت میں کچھ کمی آئی ہے اور خصوصاً وزیر اعظم اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات کے بعد ماحول نسبتاً نرم دکھائی دے رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے بیانات میں بھی کچھ لچک محسوس کی جا رہی ہے۔

احمد ولید نے خبردار کیا کہ یہ نرمی عارضی بھی ہو سکتی ہے۔

ان کے بقول اگر عمران خان سے ملاقات کے بعد کوئی سخت یا جارحانہ بیان سامنے آیا تو موجودہ پیشرفت متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا علاج ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے ہونا چاہیے، علیمہ خان کا مطالبہ

احمد ولید نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جیسے رہنما اگرچہ رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں لیکن حتمی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ابصار عالم احمد ولید تحریک انصاف حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات سیاسی درجہ حرارت میں کمی سیاسی ماحول میں نرمی شاہد خٹک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ابصار عالم احمد ولید تحریک انصاف حکومت و پی ٹی ا ئی مذاکرات سیاسی درجہ حرارت میں کمی سیاسی ماحول میں نرمی شاہد خٹک عمران خان کی ابصار عالم پی ٹی ا ئی احمد ولید نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے شاہد خٹک کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان