ضیا محی الدین کے لہجے میں شاعری سننا اب ایپلیکشن کے ذریعہ ممکن ہو پائے گا، صدر انجمن ترقی اردو پاکستان واجد جواد
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
انجمن ترقی اردو پاکستان کے صدر واجد جواد نے وی نیوز سے بات چیت میں کہا ہے کہ انجمن ترقی اردو پاکستان 1948 میں قائم ہوئی۔ دراصل، انجمن ترقی اردو ہند کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں 1930 میں رکھی گئی تھی، اور یہ آل انڈیا مسلم لیگ سے بھی 3 سال پہلے قائم ہوئی تھی۔ یہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی وغیرہ میں مسلمانوں کے درمیان تعلیم اور اردو کے فروغ کی ایک تحریک کا حصہ تھی۔ قائد اعظم اس بات کے بڑے حامی تھے کہ اردو یہاں کی قومی زبان ہوگی۔ بلکہ جب متحدہ ہندوستان کی بات ہوتی تھی، تو وہ ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ ہندی کے بجائے اردو کو ہندوستان کی قومی زبان ہونا چاہیے، اور اس کے پیچھے کافی ٹھوس دلائل تھے۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق کی خدماتواجد جواد کے مطابق اس وقت انجمن کے صدر بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب تھے۔ قائد اعظم نے انہیں خاص طور پر پاکستان آنے کی دعوت دی، اور چونکہ اس نئے ملک میں اردو ذریعہ تعلیم اور حکومت کی سرکاری زبان ہونی تھی، اس لیے انہوں نے اس سلسلے میں ان سے مدد طلب کی۔ چنانچہ وہ 1948 میں پاکستان آ گئے۔ ان کی پہلی خواہش یہاں اردو کالج قائم کرنا تھا۔ پھر کراچی انتظامیہ کی جانب سے انہیں زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کیا گیا، جو ایک آشرم تھا۔ ان کی رہائش وہیں تھی، اور انہوں نے وہاں ’انجمن ترقی اردو پاکستان‘ کے نام سے دفتر قائم کیا، اور اسی عمارت میں اردو کالج کی بنیاد رکھی۔
اردو لغت اور جریدے کی اشاعتواجد جواد کہتے ہیں کہ انہوں نے اردو لغت تیار کروائی اور اسے شائع بھی کیا۔ وہ یہاں بہت سی کتابیں شائع کرتے رہے۔ انہوں نے جریدہ ’قومی زبان‘ کا دوبارہ اجرا کیا جو آج بھی جاری ہے۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر 2019 میں یہاں منتقل ہوا تھا۔ اس سے پہلے یہ گلشن اقبال میں ایک اور پراپرٹی میں تھا۔ یہاں اب ایک بڑی جگہ ہے، ایک ریسرچ لائبریری ہے جو مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ ہے۔ یہاں سے ہمارا ایک ماہنامہ شائع ہوتا ہے، اور ایک تحقیقی جریدہ بھی ہے جو سال میں دو بار شائع ہوتا ہے، جس میں شائع ہونے والے مضامین ایچ ای سی (HEC) سے منظور شدہ ہوتے ہیں، اور وہ لکھنے والوں کے لیے ایم فل یا پی ایچ ڈی میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح، لیکچرر سے اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر تک کی ترقیاں بھی ان کے ذریعے شمار کی جاتی ہیں۔ ہمارا جریدہ تحقیقی مضامین، کتابیں اور دیگر ادبی مواد شائع کرتا ہے۔ دراصل ہمارا مقصد یہ ہے کہ اردو زبان میں سائنسی اور تکنیکی علوم پر کتابیں شائع ہوں اور تراجم کیے جائیں۔
اردو ’ٹیکسٹ ٹو اسپیچ‘ ایپ اور مخطوطات لیبواجد جواد کے مطابق، ہم نے ابھی ایک اردو ایپ لانچ کی ہے، ‘ٹیکسٹ ٹو اسپیچ’ (Text to Speech)۔ یعنی اگر کوئی تحریر اردو میں ہے، کوئی اخبار، کتاب یا صفحہ، اگر آپ اسے اردو میں پڑھنا چاہتے ہیں، تو یہ ایپ اسے درست تلفظ کے ساتھ پڑھ کر سنائے گی۔ ہمارے پاس ایک مخطوطات لیب (Manuscripts Lab) بھی ہے، جہاں ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابیں یا پرانے قلمی نسخے اسکین اور ڈیجیٹائز کر کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جا رہے ہیں۔
ضیا محی الدین کی تربیت اور اسلوبضیا محی الدین کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پہلا تعارف پی ٹی وی کے ذریعے ہوا، جب انہوں نے ’ضیاء محی الدین شو‘ شروع کیا۔ یہ پروگرام 50 سال سے زیادہ عرصے سے چل رہا ہے، جس میں ادیب، شعراء اور فنکار شرکت کرتے تھے۔ ان کا بولنے اور پڑھنے کا انداز منفرد اور تربیت یافتہ تھا۔ انہوں نے انگلستان میں بھی تربیت حاصل کی تھی اور بی بی سی کے تلفظ کے اصول اردو میں استعمال کیے۔
نمونہ اور روایت سازیواجد جواد نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ غالب کی ایک غزل کے ایک حصے کو ضیا محی الدین کے انداز میں سنانے کے بعد ماحول بالکل بدل جاتا تھا۔ انہوں نے نئی روایتیں قائم کیں اور اردو تلفظ کے فروغ کے لیے ناپا (NAPA) میں لوگوں کو ڈرامہ، موسیقی، غزل، گانا اور نثر پڑھنا سکھایا۔
شخصیت اور نظم و ضبطواجد جواد نے کہا کہ ضیا محی الدین کا ہر عمل، وقت اور شیڈول انتہائی منظم تھا۔ وہ خوش مزاج اور ملنسار انسان تھے۔ ان کی آواز کی ریکارڈنگز حاصل کر کے ‘اسپیچ ٹو ٹیکسٹ’ ایپ میں شامل کیا گیا تاکہ لوگ ان کے لہجے میں شاعری سن سکیں۔
ادارہ اور مستقبلواجد جواد نے مزید کہا کہ غالب، میر تقی میر، فیض اور اقبال روز روز پیدا نہیں ہوتے، لیکن ادارہ قائم کر کے ان کی روایات اور نصاب کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اداکاری، آواز، موسیقی اور رقص میں باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انجمن ترقی اردو پاکستان ضیا محی الدین واجد جواد نے انہوں نے اور اس
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔