انجمن ترقی اردو پاکستان کے صدر واجد جواد نے وی نیوز سے بات چیت میں کہا ہے کہ انجمن ترقی اردو پاکستان 1948 میں قائم ہوئی۔ دراصل، انجمن ترقی اردو ہند کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں 1930 میں رکھی گئی تھی، اور یہ آل انڈیا مسلم لیگ سے بھی 3 سال پہلے قائم ہوئی تھی۔ یہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی وغیرہ میں مسلمانوں کے درمیان تعلیم اور اردو کے فروغ کی ایک تحریک کا حصہ تھی۔ قائد اعظم اس بات کے بڑے حامی تھے کہ اردو یہاں کی قومی زبان ہوگی۔ بلکہ جب متحدہ ہندوستان کی بات ہوتی تھی، تو وہ ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ ہندی کے بجائے اردو کو ہندوستان کی قومی زبان ہونا چاہیے، اور اس کے پیچھے کافی ٹھوس دلائل تھے۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق کی خدمات

واجد جواد کے مطابق اس وقت انجمن کے صدر بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب تھے۔ قائد اعظم نے انہیں خاص طور پر پاکستان آنے کی دعوت دی، اور چونکہ اس نئے ملک میں اردو ذریعہ تعلیم اور حکومت کی سرکاری زبان ہونی تھی، اس لیے انہوں نے اس سلسلے میں ان سے مدد طلب کی۔ چنانچہ وہ 1948 میں پاکستان آ گئے۔ ان کی پہلی خواہش یہاں اردو کالج قائم کرنا تھا۔ پھر کراچی انتظامیہ کی جانب سے انہیں زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کیا گیا، جو ایک آشرم تھا۔ ان کی رہائش وہیں تھی، اور انہوں نے وہاں ’انجمن ترقی اردو پاکستان‘ کے نام سے دفتر قائم کیا، اور اسی عمارت میں اردو کالج کی بنیاد رکھی۔

اردو لغت اور جریدے کی اشاعت

واجد جواد کہتے ہیں کہ انہوں نے اردو لغت تیار کروائی اور اسے شائع بھی کیا۔ وہ یہاں بہت سی کتابیں شائع کرتے رہے۔ انہوں نے جریدہ ’قومی زبان‘ کا دوبارہ اجرا کیا جو آج بھی جاری ہے۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر 2019 میں یہاں منتقل ہوا تھا۔ اس سے پہلے یہ گلشن اقبال میں ایک اور پراپرٹی میں تھا۔ یہاں اب ایک بڑی جگہ ہے، ایک ریسرچ لائبریری ہے جو مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ ہے۔ یہاں سے ہمارا ایک ماہنامہ شائع ہوتا ہے، اور ایک تحقیقی جریدہ بھی ہے جو سال میں دو بار شائع ہوتا ہے، جس میں شائع ہونے والے مضامین ایچ ای سی (HEC) سے منظور شدہ ہوتے ہیں، اور وہ لکھنے والوں کے لیے ایم فل یا پی ایچ ڈی میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح، لیکچرر سے اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر تک کی ترقیاں بھی ان کے ذریعے شمار کی جاتی ہیں۔ ہمارا جریدہ تحقیقی مضامین، کتابیں اور دیگر ادبی مواد شائع کرتا ہے۔ دراصل ہمارا مقصد یہ ہے کہ اردو زبان میں سائنسی اور تکنیکی علوم پر کتابیں شائع ہوں اور تراجم کیے جائیں۔

اردو ’ٹیکسٹ ٹو اسپیچ‘ ایپ اور مخطوطات لیب

واجد جواد کے مطابق، ہم نے ابھی ایک اردو ایپ لانچ کی ہے، ‘ٹیکسٹ ٹو اسپیچ’ (Text to Speech)۔ یعنی اگر کوئی تحریر اردو میں ہے، کوئی اخبار، کتاب یا صفحہ، اگر آپ اسے اردو میں پڑھنا چاہتے ہیں، تو یہ ایپ اسے درست تلفظ کے ساتھ پڑھ کر سنائے گی۔ ہمارے پاس ایک مخطوطات لیب (Manuscripts Lab) بھی ہے، جہاں ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابیں یا پرانے قلمی نسخے اسکین اور ڈیجیٹائز کر کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جا رہے ہیں۔

ضیا محی الدین کی تربیت اور اسلوب

ضیا محی الدین کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پہلا تعارف پی ٹی وی کے ذریعے ہوا، جب انہوں نے ’ضیاء محی الدین شو‘ شروع کیا۔ یہ پروگرام 50 سال سے زیادہ عرصے سے چل رہا ہے، جس میں ادیب، شعراء اور فنکار شرکت کرتے تھے۔ ان کا بولنے اور پڑھنے کا انداز منفرد اور تربیت یافتہ تھا۔ انہوں نے انگلستان میں بھی تربیت حاصل کی تھی اور بی بی سی کے تلفظ کے اصول اردو میں استعمال کیے۔

نمونہ اور روایت سازی

واجد جواد نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ غالب کی ایک غزل کے ایک حصے کو ضیا محی الدین کے انداز میں سنانے کے بعد ماحول بالکل بدل جاتا تھا۔ انہوں نے نئی روایتیں قائم کیں اور اردو تلفظ کے فروغ کے لیے ناپا (NAPA) میں لوگوں کو ڈرامہ، موسیقی، غزل، گانا اور نثر پڑھنا سکھایا۔

شخصیت اور نظم و ضبط

واجد جواد نے کہا کہ ضیا محی الدین کا ہر عمل، وقت اور شیڈول انتہائی منظم تھا۔ وہ خوش مزاج اور ملنسار انسان تھے۔ ان کی آواز کی ریکارڈنگز حاصل کر کے ‘اسپیچ ٹو ٹیکسٹ’ ایپ میں شامل کیا گیا تاکہ لوگ ان کے لہجے میں شاعری سن سکیں۔

ادارہ اور مستقبل

واجد جواد نے مزید کہا کہ غالب، میر تقی میر، فیض اور اقبال روز روز پیدا نہیں ہوتے، لیکن ادارہ قائم کر کے ان کی روایات اور نصاب کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اداکاری، آواز، موسیقی اور رقص میں باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انجمن ترقی اردو پاکستان ضیا محی الدین واجد جواد نے انہوں نے اور اس

پڑھیں:

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔

فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔

رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔

ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی  
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا