کوئٹہ میں آج بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: لاہور کے بعد صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی آج سے بسنت کا تہوار روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے شہریوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسنت کو محفوظ اور پُرامن انداز میں منایا جائے اور ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں 13 سے 15 فروری تک جاری رہنے والی تقریبات کے دوران پتنگ بازی، موسیقی اور مقامی ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ شہر میں پتنگوں، ڈور اور بسنت سے متعلق اشیا کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث بازاروں میں غیر معمولی گہما گہمی ہے۔ دکانداروں کے مطابق گزشتہ چند روز میں پتنگوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ نوجوان طبقہ خاصا پرجوش نظر آ رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی عرب کے وزیر دفاع سے اہم ملاقات
یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی ہوئی تھی، جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں اور گھروں کی چھتوں پر جمع ہو کر پتنگ بازی کی اور شہر میں جشن کا سماں رہا۔
کوئٹہ کے رہائشی محمد شعیب کا کہنا ہے کہ محدود تفریحی مواقع کے باعث بسنت جیسے ثقافتی تہوار عوام کے لیے خوشی کا ذریعہ بنتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سرگرمیاں شہر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور سیاحت کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ
دوسری جانب بعض شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بسنت کی تقریبات کو مکمل قانونی اور حفاظتی دائرہ کار میں رکھا جائے تاکہ ماضی کے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ مناسب نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے ذریعے اس تہوار کو محفوظ اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔