نئی دہلی (نیوز ڈیسک)ناکام سفارتکاری، جعلی ڈگریوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس اور کرپٹ نظام کے باعث بھارت سے بیرونِ ملک تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بیرونِ ملک بھارتی طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی نے مودی حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

بھارتی جریدے NDTV کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران بیرونِ ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں 31 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی تعلیمی میدان میں بھارت کے سکڑتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

اسی حوالے سے جریدے The Tribune نے رپورٹ کیا ہے کہ تین سال کے دوران بیرونِ ملک زیر تعلیم بھارتی طلبہ کی تعداد 9 لاکھ 8 ہزار سے کم ہو کر 6 لاکھ 26 ہزار رہ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار بھارتی وزیر تعلیم سکانتا مجمدار نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں فراہم کیے۔

ماہرینِ تعلیم کے مطابق وزیر اعظم Narendra Modi کی حکومت کی ناکام سفارتکاری اور بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں اضافے کے باعث مختلف ممالک بھارتی شہریوں اور طلبہ پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگری اسکینڈلز اور ویزا فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بھارتی طلبہ کی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ امریکی ایچ ون ویزا پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے بھارتی نوجوان اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سخت ویزا قوانین، امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلی اور سفارتی کمزوری کے باعث بھارتی طلبہ اور پروفیشنلز کو روزگار اور تعلیم دونوں محاذوں پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں یہ بڑی کمی بھارت کے تعلیمی اور سفارتی نظام کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔ اگر جعلی نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں بھارتی طلبہ کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
https://mnews.

pk/wp-content/uploads/2026/02/indian-students.mp4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی طلبہ کی طلبہ کی تعداد

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی