ناکام سفارتکاری اور کرپٹ نظام کےباعث بھارت سےبیرون ملک تعلیم کیلئےجانے والے طلبہ کامستقبل داؤپر
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)ناکام سفارتکاری، جعلی ڈگریوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس اور کرپٹ نظام کے باعث بھارت سے بیرونِ ملک تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بیرونِ ملک بھارتی طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی نے مودی حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بھارتی جریدے NDTV کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران بیرونِ ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں 31 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی تعلیمی میدان میں بھارت کے سکڑتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
اسی حوالے سے جریدے The Tribune نے رپورٹ کیا ہے کہ تین سال کے دوران بیرونِ ملک زیر تعلیم بھارتی طلبہ کی تعداد 9 لاکھ 8 ہزار سے کم ہو کر 6 لاکھ 26 ہزار رہ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار بھارتی وزیر تعلیم سکانتا مجمدار نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں فراہم کیے۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق وزیر اعظم Narendra Modi کی حکومت کی ناکام سفارتکاری اور بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں اضافے کے باعث مختلف ممالک بھارتی شہریوں اور طلبہ پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگری اسکینڈلز اور ویزا فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بھارتی طلبہ کی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ امریکی ایچ ون ویزا پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے بھارتی نوجوان اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سخت ویزا قوانین، امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلی اور سفارتی کمزوری کے باعث بھارتی طلبہ اور پروفیشنلز کو روزگار اور تعلیم دونوں محاذوں پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں یہ بڑی کمی بھارت کے تعلیمی اور سفارتی نظام کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔ اگر جعلی نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں بھارتی طلبہ کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی طلبہ کی طلبہ کی تعداد
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔