پاکستان اور چین کی زرعی و لائیوسٹاک شعبہ میں تاریخی شراکت داری
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور چین کے درمیان زرعی اور لائیوسٹاک شعبے میں تاریخی شراکت داری نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اس پیش رفت میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (Special Investment Facilitation Council) کے تعاون سے دونوں ممالک نے زرعی و لائیوسٹاک تعاون میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یہ پیش رفت جنوری میں چینی وفد کے پاکستان دورے اور 2026 کی چین-پاکستان ایگریکلچر انویسٹمنٹ کانفرنس کے بعد سامنے آئی، جس میں زرعی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر اتفاق کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق چین کے ادارے Jinan Animal Husbandry Industry Craftsman College نے پاکستان میں Pak-China Joint Chamber of Commerce and Industry اور Go Dairy کے ساتھ دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
ان معاہدوں کے تحت پاکستان میں
پاکستان-چین اینیمل ہسبنڈری سینٹر
اور
ویٹرنری ٹیکنالوجی سینٹر
کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جن کا مقصد لائیوسٹاک کی افزائش، بیماریوں کی روک تھام اور جدید ویٹرنری مہارت کی منتقلی ہے۔
اس کے علاوہ چین نے پاکستان کی معروف تعلیمی ادارے University of Veterinary and Animal Sciences کے ساتھ مشترکہ تربیتی بیس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جہاں پاکستانی طلبہ اور ماہرین کو جدید اینیمل ہسبنڈری اور ویٹرنری ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ان معاہدوں سے پاکستان میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں بہتری آئے گی، برآمدات کے مواقع بڑھیں گے اور دیہی معیشت کو تقویت ملے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرعی اور لائیوسٹاک شعبے میں پاکستان اور چین کی یہ شراکت داری نہ صرف غذائی تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بھی نئی جہت دے گی۔
یہ شراکت داری اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان اور چین زرعی ترقی کو صنعتی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے طویل المدتی تعاون کی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور چین شراکت داری
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔