data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کے دورِ انتظام میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کی مسلسل نگرانی اور طبی معائنوں کا تفصیلی ریکارڈ سامنے آ گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران مجموعی طور پر 25 مرتبہ عمران خان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروایا گیا، یہ تمام معائنے مختلف اوقات میں، ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور سرکاری ہسپتالوں کی ٹیموں کے ذریعے انجام دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ 29 اگست 2025 کو بانی پی ٹی ائی عمران خان کی جانب سے بینائی کمزور ہونے کی شکایت سامنے آنے پر پہلی مرتبہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ ڈاکٹر عارف نے ان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس ابتدائی چیک اپ کے بعد جنوری 2026 میں مزید دو مرتبہ آنکھوں کی جانچ کی گئی تاکہ کسی ممکنہ پیچیدگی کو بروقت قابو میں رکھا جا سکے اور علاج کا تسلسل برقرار رہے۔

ذرائع نے بتایا کہ عبدالغفور انجم نے بطور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے کے دن، یعنی 16 جنوری کو بھی بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کو یقینی بنایا۔ اس موقع پر پمز کی تین رکنی خصوصی میڈیکل ٹیم نے جیل پہنچ کر عمران خان کا مکمل چیک اپ کیا اور صحت کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے بعض مواقع پر غفلت برتی گئی جبکہ سابق سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم پر بھی لاپرواہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تاہم جیل حکام کے فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ڈیڑھ سال کے دوران درجنوں بار طبی معائنے کروا کر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر گہری نظر رکھی گئی اور ضرورت کے مطابق ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کیا جاتا رہا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان