نو مئی مقدمات، پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 3 اپریل تک توسیع
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 3 اپریل تک توسیع کردی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے مسلم لیگ نون کا آفس جلانے سمیت نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے دیگر مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت کے کیس کی سماعت کی۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہو کر حاضری مکمل کروائی جبکہ سابق وفاقی وزیر اسد عمر، علیمہ خانم عظمی خانم ، اعظم خان سواتی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر، علیمہ خانم عظمی خانم ، اعظم خان سواتی کی جانب سے وکلا نے ایک روسی حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی۔
یاد رہے کہ اسد عمر نے مسلم لیگ نون کا آفس جلانے سمیت دیگر مقدمات میں عبوری ضمانت دائر کر رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔