تین سالہ بچے کی ہلاکت، عدالت نے میئر و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرنیکی درخواست نمٹادی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیپا کے قریب مین ہول میں گرنے سے تین سالہ ابراہیم کی ہلاکت کا معاملہ،عدالت نے مقدمہ اندراج کی درخواست پر فیصلہ سنادیا ۔میئر کراچی و دیگر حکام کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست کی سماعت کراچی کی مقامی عدالت میں ہوئی جہاں عدالت نے مقدمہ اندراج کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ بادی النظر میں نامزد ملزمان کے خلاف کوئی قابل دست اندازی جرم ثابت نہیں ہوتا، درخواست گزار کا موقف تھا کہ 30 نومبر 2025 کو نیپا کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے سے 3 سالہ ابراہیم کی ہلاکت ہوئی، متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث ننھے ابراہیم کی ہلاکت ہوئی، پولیس سے رجوع کرنے کے باوجود نامزد ملزمان کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا، کے ایم سی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ قتل بالسبب کے اطلاق کے لئے براہ راست غفلت کے شواہد ہونا ضروری ہیں، انتظامی غفلت یا کوتاہی قتل بالسبب کی دفعات کے تحت نہیں آتی، درخواست گزار اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں ہے، تعزیرات پاکستان میں سرکاری حکام کے لئے بالواسطہ کرمنل ذمہ داری تسلیم نہیں کی جاتی، عدالت کا کہنا تھا کہ جسٹس آف پیس کے اختیارات محدود نوعیت کے ہیں، جسٹس آف پیس متنازع حقائق کا تعین یا کرمنل ذمہ داریوں کا فیصلہ نہیں کرسکتا، متوفی بچے کے ورثا نے خود عدالت سے رجوع نہیں کیا اور نا ہی کسی کارروائی کی خواہش کا اظہار کیا ہے، بچے کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ نہایت افسوسناک ہے، جذباتی پہلو قانونی تقاضوں کا نعم البدل نہیں ہوسکتے، انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات سول فورمز پر اٹھائے جاسکتے ہیں، ورثا اگر چاہیں تو قانون کے مطابق متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتے ہیں، عدالت نے مئیر کراچی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست نمٹادی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی درخواست کی ہلاکت عدالت نے کے خلاف
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔