اے آئی چیٹ بوٹ میں میری تصویر اور آواز کا استعمال بند کیا جائے، اداکارہ عدالت پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
البانیہ کی مشہور اداکارہ انیلا بشا نے کہا ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے اے آئی چیٹ بوٹ میں ان کی تصویر اور آواز کے استعمال کو روکنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ اداکارہ نے حکومت پر اپنی شناخت کے استحصال کا الزام بھی لگایا ہے۔
وزیراعظم ادی راما نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ ایک اے آئی نظام جسے ڈیلا کہا گیا ہے عوامی ٹینڈرز کے پورٹ فولیو کی نگرانی کرے گا اور ایک ’وزیر‘ کے طور پر کام کرے گا۔ اس کا مقصد کرپشن کو ختم کرنا اور ٹینڈرز کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
انیلا بشا نے کہا کہ انہوں نے اپنی تصویر اور آواز کے اس طرح استعمال کی کبھی اجازت نہیں دی۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جو 2025 کے آخر تک آن لائن سروس پورٹل پر ورچوئل اسسٹنٹ کے لیے تصویر کے استعمال کی اجازت دیتا تھا۔
حکومت کے اعلان کے بعد ایک ویڈیو میں بشا کے چہرے کا کمپیوٹر جنریٹڈ ورژن وزیر کے طور پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتا دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں وزیر نے کہا کہ یہ نظام ’لوگوں کی جگہ لینے نہیں آیا‘۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
بشا نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل ایجنسی برائے انفارمیشن سوسائٹی نے ان کی تصویر اور آواز پر پیٹنٹ دائر کر دیا جس سے ان کے کام پر اثر پڑا۔ حکومت سے رابطے کے بعد کوئی جواب نہ ملنے پر اداکارہ نے عدالت میں رجوع کیا۔
ڈیلا جس کا مطلب ’سورج‘ ہے عوامی ٹینڈرز کے تمام فیصلوں کی نگرانی کرے گی جس سے وزیراعظم راما کا کہنا ہے کہ یہ عمل ’کرپشن فری‘ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکارہ اور اے آئی اے آئی اے آئی کا استعمال اے آئی کے اثرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکارہ اور اے ا ئی اے ا ئی اے ا ئی کا استعمال اے ا ئی کے اثرات تصویر اور آواز اے ا ئی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔