اگر کوئی ہماری شادی ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے تو کرتا رہے: پریانکا چوپڑا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بالی ووڈ و ہالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا جونس نے اپنے اور شوہر و امریکی گلوکار نک جونس کے درمیان عمر، ممالک و مذاہب کے فرق کے باعث ہونے والی تنقید پر خاموشی توڑ دی۔
حال ہی میں غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی اداکارہ نے کہا کہ اگر کوئی ہماری شادی ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے تو کرتا رہے، میں نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ یہ ہر شخص کا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ اپنی پسند کے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے یا نہیں، ہماری شادی کو 8 سال ہو چکے ہیں، اگر لوگ اس کے ٹوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، میں نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ہمارے بارے میں ایسی کیا بات تھی جو لوگوں کو ناگوار گزری، شاید اس کی وجہ ہماری بین الثقافتی شادی تھی۔
پریانکا نے کہا کہ مختلف ممالک، مختلف مذاہب اور عمر کا فرق، یہ سب باتیں لوگوں کے لیے موضوعِ بحث بنیں، جو ہمارے لیے تکلیف دہ تھی، مگر ہم نے دوسروں کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے پر توجہ مرکوز رکھی، کیونکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اب یہ سب ہمارے لیے بے معنی ہو چکا ہے۔
انہوں نے نک جونس کی سنجیدگی اور خلوص کی تعریف کی اور کہا کہ ہماری شادی بہت جلدی ہوئی، ملاقات کے 6 ماہ کے اندر، جب میں نے ان سے شادی کی تو مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ سب حقیقت ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ 43 سالہ پریانکا چوپڑا اور 33 سالہ نک جونس نے 2018ء میں بھارتی ریاست راجستھان میں شادی کی تھی، اُس وقت اداکارہ کی عمر 36 برس تھی جبکہ نک جونس 26 برس کے تھے، اس جوڑے کے ہاں جنوری 2022ء میں بیٹی مالتی میری جونس چوپڑا کی پیدائش ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔