ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
عظیم شاعر SHELLYکی نظم”OZYMANDIAS”دراصل تاریخ، طاقت، وقت اور انسانی انا کے باہمی تصادم پر ایک گہرا فلسفیانہ مکالمہ ہے جو بظاہر ایک شکستہ مجسمے کی تصویر سے شروع ہو کر اقتدار کے ما بعد الطبیعی انجام تک جا پہنچتا ہے۔ نظم کی ساخت ہی ہمیں بتا دیتی ہے کہ سچ براہِ راست نہیں بلکہ بیانیوں کی تہہ در تہہ منتقلی سے آشکار ہوتا ہے: شاعر خود کچھ نہیں دیکھتا، وہ ایک مسافر سے سنتا ہے، جو ایک قدیم تہذیب کے آثار بیان کرتا ہے۔ یہ فاصلہ اس بات کی علامت ہے کہ طاقت ہمیشہ اپنے بارے میں براہِ راست سچ نہیں بولتی، اسے سمجھنے کے لیے وقت اور تاریخ کی چھلنی درکار ہوتی ہے۔ مسافر جس منظر کو بیان کرتا ہے وہ مکمل نہیں بلکہ ٹوٹا ہوا ہے، اور یہی ٹوٹ پھوٹ اصل معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ اقتدار جب بکھرتا ہے تو وہ اپنی اصل حقیقت ظاہر کرتا ہے۔صحرا میں کھڑی پتھر کی دو عظیم مگر بے سر ٹانگیں طاقت کی اس خواہش کی علامت ہیں جو خود کو قائم رکھنا چاہتی ہے مگر روح اور اخلاق کے بغیر۔ جسم کا نچلا حصہ باقی ہے، سر ٹوٹ چکا ہے، یعنی قوت موجود ہے مگر شعور اور بصیرت مفقود۔ آدھا دبا ہوا چہرہ ہمیں بتاتا ہے کہ تاریخ مکمل مٹاتی نہیں بلکہ ذلت کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔ وہ بھونڈی شکل، جھریوں والے ہونٹ اور سرد حکم دینے والی ہنسی دراصل اس نفسیات کا اظہار ہیں جو اقتدار کو انسانیت سے بلند سمجھتی ہے۔ یہ چہرہ صرف ایک بادشاہ کا نہیں بلکہ ہر اس نظام کا ہے جو خود کو سوال سے ماورا سمجھ لیتا ہے۔
شیلی یہاں ایک نہایت اہم نکتہ اٹھاتا ہے کہ ظالم طاقت کا سب سے سچا گواہ خود اس کا فن بن جاتا ہے۔ مجسمہ ساز نے حاکم کے جذبے کو اس قدر درست پڑھا کہ وہ جذبے پتھر میں بھی زندہ رہ گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم اور غرور وقتی نہیں ہوتے بلکہ اپنی شکلیں تاریخ میں ثبت کروا دیتے ہیں۔”وہ ہاتھ جس نے ان کا مذاق اڑایا اور وہ دل جو کھلایا”ایک گہرا تضاد ہے: ہاتھ طاقت کا استعارہ ہے، دل خواہش اور ہوس کا۔ یعنی اقتدار کی تخلیق میں جبر بھی شامل تھا اور لالچ بھی۔ یہی امتزاج ہر آمرانہ نظام کی بنیاد بنتا ہے۔نظم کا سب سے سفاک لمحہ پیڈسٹل پر کندہ وہ اعلان ہے جو خود کو تاریخ کا فاتح سمجھتا ہے:”میرا نام اوزیمینڈیاس ہے، بادشاہوں کا بادشاہ”۔ یہ جملہ محض غرور نہیں بلکہ وجودی دعویٰ ہے کہ طاقت ہی حقیقت ہے، اور حقیقت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ مگر اسی دعوے کے فوراً بعد نظم ہمیں اس کے انکار سے ٹکرا دیتی ہے۔”میرے کاموں کو دیکھو، اے غالب، اور مایوس ہو جاؤ”دراصل دوسروں کے لیے نہیں بلکہ خود اقتدار کے لیے ایک طنزیہ فقرہ بن جاتا ہے کیونکہ دیکھنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں۔ طاقت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ اپنی یادگاروں کو آئین دوام سمجھتی ہے، مگر وقت ان آئینوں کو ریت میں توڑ دیتا ہے۔نظم کا اختتام بے حد خاموش مگر فیصلہ کن ہے۔ چاروں طرف پھیلی ہوئی ننگی، لامحدود ریت اس حقیقت کی علامت ہے کہ وقت نہ کسی کا دشمن ہے نہ دوست، وہ محض بے رحم طور پر غیر متعلق ہے۔ وہ سلطنتوں کو اسی بے حسی سے دفن کرتا ہے جیسے وہ معمولی قدموں کے نشان مٹا دیتا ہے۔ یہاں صحرا محض جغرافیہ نہیں بلکہ وجودی خلا ہے جہاں انسانی غرور اپنی مکمل تنہائی کے ساتھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ عظمت کا ملبہ اور اس کے گرد پھیلی خاموشی اس بات کا اعلان ہے کہ طاقت اگر انسان کے اجتماعی شعور میں جڑ نہ پکڑے تو اس کا انجام صرف ویرانی ہے۔فلسفیانہ سطح پر”اوزیمینڈیاس” ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ ترقی کی سیدھی لکیر نہیں بلکہ غرور اور زوال کے دائروں پر مشتمل ہے۔ ہر وہ طاقت جو خود کو مطلق سمجھتی ہے، وقت کے ہاتھوں ایک علامت بن جاتی ہے، اور علامت ہمیشہ سبق ہوتی ہے، کامیابی نہیں۔ شیلی کے نزدیک اصل بقا طاقت میں نہیں بلکہ اخلاق، شعور اور انسانیت میں ہے کیونکہ صرف وہی چیزیں ہیں جو وقت کی کسوٹی پر پوری اتر سکتی ہیں۔ یہ نظم دراصل انسان کو یہ آئینہ دکھاتی ہے کہ اگر وہ خود کو خدا سمجھنے لگے تو اس کا انجام صرف ایک ٹوٹا ہوا مجسمہ ہے، اور اس مجسمے کے گرد پھیلی ہوئی خاموش ریت ہمیشہ اس کے دعوؤں پر ہنستی رہے گی۔
پاکستانی سماج آج ایک زندہ اوزیمینڈیاس ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں مجسمہ ابھی مکمل ٹوٹا نہیں، بس دراڑیں واضح ہو چکی ہیں۔ اقتدار، ریاست، ادارے اور اشرافیہ سب اپنے اپنے پیڈسٹل پر کھڑے ہو کر اعلان کر رہے ہیں: ہماری طاقت کو دیکھو اور مان لو، مگر نیچے حقیقت کی ریت مسلسل سرک رہی ہے۔ یہاں بھی طاقت خود کو ابدی سمجھتی ہے، خود کو نجات دہندہ کہتی ہے، خود کو تاریخ کا مرکز مانتی ہے، مگر اس کے گرد پھیلی خاموشی، غربت، خوف اور بے بسی چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ سب محض ایک دھوکا ہے جو وقت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔پاکستانی سماج میں طاقت کا چہرہ بھی اوزیمینڈیاس کی طرح جھریوں سے بھرا ہوا ہے، آنکھوں میں سرد حکم، ہونٹوں پر غرور کی مسکراہٹ، اور لہجے میں ناقابلِ سوال ہونے کا زعم۔ یہاں ریاست خود کو عوام سے بالا سمجھتی ہے، ادارے خود کو جواب دہ نہیں بلکہ مقدس قرار دیتے ہیں، اور اشرافیہ اپنے مفادات کو قومی مفاد کا نام دے کر پیش کرتی ہے۔ یہ سب ایک اجتماعی نفسیات ہے جس میں طاقت سچ سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے، اور سچ صرف وہی مانا جاتا ہے جو طاقت کہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سماج زوال کے راستے پر قدم رکھتا ہے، کیونکہ جب سوال جرم بن جائے تو ٹوٹ پھوٹ ناگزیر ہو جاتی ہے۔یہاں بھی مجسمہ ساز موجود ہیں۔ نصاب، میڈیا، خطبات، قومی بیانیے—سب اس مجسمہ سازی میں شریک ہیں۔ وہ اقتدار کے جذبے کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اسے پتھر میں ڈھال دیتے ہیں۔ تاریخ کو اس طرح لکھا جاتا ہے کہ طاقت ہمیشہ حق پر نظر آئے، شکست کو فتح کہا جائے، اور عوام کو شکر گزار رہنے کی تلقین کی جائے۔ مگر شیلی کی طرح تاریخ کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ سچ کو مکمل طور پر دفن نہیں ہونے دیتی۔ چہرہ آدھا دبا ہوتا ہے، مگر موجود ہوتا ہے۔ جھوٹ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے آثار ہمیشہ باقی رہتے ہیں، اور یہی آثار آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑا الزام بن جاتے ہیں۔ پاکستانی سماج کا المیہ یہ ہے کہ یہاں پیڈسٹل پر کندہ الفاظ اور نیچے کی حقیقت میں کوئی تعلق نہیں۔ آئین، قانون، جمہوریت، انصاف—سب بلند نعروں کی صورت میں موجود ہیں، مگر زمین پر ان کا کوئی سایہ نظر نہیں آتا۔ ریاست کہتی ہے سب کچھ قومی سلامتی کے لیے ہے، مگر عوام کی سلامتی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ معیشت ترقی کے دعوے کرتی ہے، مگر اکثریت فاقہ کشی کی لکیر سے نیچے دھکیلی جا چکی ہے۔ ادارے استحکام کا نام لیتے ہیں، مگر سماج مسلسل عدمِ استحکام کی حالت میں رکھا جاتا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جو ہر آمرانہ یا نیم آمرانہ سماج کا مقدر ہوتا ہے۔سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ پاکستانی سماج نے بھی اس زوال کو معمول سمجھ لیا ہے۔ جیسے صحرا کی ریت خاموشی سے سب کچھ ڈھانپ لیتی ہے، ویسے ہی خوف، مایوسی اور بے حسی نے اجتماعی شعور کو ڈھانپ لیا ہے۔ لوگ سوال نہیں کرتے کیونکہ سوال کی قیمت زیادہ ہے۔ لوگ یادداشت نہیں رکھتے کیونکہ یاد رکھنا تکلیف دہ ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سماج اندر سے مرنے لگتا ہے، اور طاقت کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ سب ٹھیک ہے، کہ خاموشی رضامندی ہے، کہ ڈر
وفاداری ہے۔مگر تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ خاموش صحرا سب سے بڑا گواہ ہوتا ہے۔ جب اقتدار گر جاتا ہے تو اس کے حق میں بولنے والے نہیں ہوتے، صرف اس کے ملبے کے گرد پھیلی ویرانی ہوتی ہے۔ پاکستانی سماج اگر خود کو اس انجام سے بچانا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے پیڈسٹل توڑنے ہوں گے، افراد کو نہیں بلکہ اس سوچ کو جو خود کو مطلق سمجھتی ہے۔ ورنہ وقت، جو نہ محبِ وطن ہوتا ہے نہ غدار، نہ جمہوری ہوتا ہے نہ آمر، وہ بے رحمی سے فیصلہ کرے گا، اور آنے والی نسلیں ہمارے نعروں کو اسی طنز کے ساتھ پڑھیں گی جس طنز کے ساتھ آج ہم اوزیمینڈیاس کے الفاظ پڑھتے ہیں۔ طاقت چلی جاتی ہے، ریت باقی رہتی ہے، اور ریت ہمیشہ سچ یاد رکھتی ہے۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستانی سماج ہے کہ طاقت نہیں بلکہ سمجھتی ہے جو خود کو ہیں بلکہ یہ ہے کہ کے ساتھ طاقت کا ہوتا ہے کرتا ہے جاتا ہے جاتی ہے کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔