کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ورکر بغیر اجازت نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے لہٰذا آؤ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں۔وزیراعلی خیبرپختونخوا (کے پی) سہیل آفریدی، رہنما سلمان اکرم راجا، جنید اکبر، شفیع جان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی، اس موقع پر صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا، سب سے پہلے ہمارے لیے عمران خان کی صحت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک رکن قومی اسمبلی عادل بزائی کو لیفوما ہوگیا ہے، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کا علاج باہر ہو گا، میں آج ایک دو وفاقی وزرا سے بھی ملا ہوں لیکن ان کے ہاتھ کھڑے ہیں، آپ سب لوگوں کو پتا ہے کہ اس سب کے پیچھے کون ہے؟ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں ننگا کریں، ہمارے خلاف ایف آئی ار درج کرائیں، اس سے ہمارے دل میں آپ کے لیے نفرت بڑھے گی، ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں، ہمیں آپ ملی نغموں کے پیچھے لگائیں گے۔جنید اکبر نے کہا کہ انٹلیجنس اداروں کا یہ کام نہیں ہے کہ اس کو اٹھاؤ، اس کو لگاؤ، آپ کو کام ہمیں تحفظ فراہم کرنا ہے، سب کو پتا ہے چور لٹیروں کو ہم پر کس نے مسلط کیا ہے، میں پرو اسٹبلشمنٹ ہوں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کا رویہ ہمارے ساتھ ایسا ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تک میں آپ سے محبت نہیں کر سکتا جب تک آپ اپنا رویہ تبدیل نہ کریں، میں آواز اٹھاتا ہوں تو اٹھایا جاتا ہوں، ہم گالیاں کھاتے ہیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے ورکر اداروں سے لڑیں، جس دن ہم اپنے ورکر کے آگے سے ہٹ گئے اس دن یہ آپ کو چھوڑیں گے نہیں، جس دن اجازت کے بغیر یہ ورکر نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے کہا کہ آؤ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں، عمران خان بڑے دل کا مالک ہے وہ سب کچھ معاف کر دے گا، ملک میں امن تب ہو گا جب ایسا لیڈر ہوگا جس کے پیچھے لوگ کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں میرا وزیراعظم اسمبلی نہیں آتا، وزیر داخلہ اسمبلی نہیں آتا کیونکہ انہیں پتا ہے کہ آپ منتخب ہو کر نہیں آئے، ہماری یوتھ آپ سے بہت دور ہو گئی ہے، یہ آپ کو تب قبول کریں گے جب آپ عمران خان کو قبول کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ عمران خان کو نہیں توڑ سکتے، توڑنا ہوتا تو تین سال میں توڑ لیتے، ہمیں مضبوط پاکستان چاہیے، میں ہر اس بندے کو دہشت گرد سمجھتا ہوں جو کسی بندے کی جان لے۔انہوں نے کہا کہ جس نے خان کو ستایا ہو ذلیل ہو گا، آؤ سب بھول کر آگے بڑھیں، ان چور لٹیروں کو آپ نے ہم پر مسلط کیا ہے، آپ اس کے ذمہ دار ہیں، میرے خلاف مزید ایف آئی آر ہو سکتی ہے، میرے وارنٹ نکل سکتے ہیں۔جنید اکبر نے کہا کہ اگر عمران خان اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے، ہم اپنے ورکرز سے تھک گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ کال کیوں نہیں دیتے، آپ مجھے ویڈیو سے ڈراتے ہیں، بیوی بچوں سے ڈراتے ہیں، جس کے بیوی بچے نہیں ہوں گے اسے کیسے ڈرائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مطالعہ پاکستان میں غلط لکھا ہے اسے تبدیل کریں، آپ سمجھتے ہیں ضیاالحق اور مشرف غلط تھے تو انہیں غلط ڈکلئیر کریں، آپ پاکستان کے ماما چاچا نہ بنیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی دہشت گردی کو حل کر سکتا ہے تو وہ پی ٹی آئی ہے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ میں ساری عمر یہاں رہوں گا، ریٹائر ہو کر باہر نہیں جانا، عمران خان کو تکلیف دیں گے تو کوئی آپ سے محبت نہیں کرے گا۔وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی گئی، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس قدر عمران خان کی صحت خراب ہو گئی ہے لیکن پہلے کسی نے دھیان نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے ذاتی ڈاکٹر اور فیملی کو اعتماد میں لیے بغیر اسپتال لے جایا گیا اور انجکشن لگایا گیا، آج جو خطرناک رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں کہہ رہے ہیں کہ 15 فیصد دکھائی دے رہا ہے، یہ ایک کرمنل ایکٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں جیل مینول کی خلاف ورزی بھی ہے، نواز شریف کی جب صحت کا معاملہ آیا تھا تو عدلیہ اور صحافیوں نے مل کر آواز اٹھائی تھی، عمران خان نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور انہیں ملک سے جانے دیا لیکن اس وقت وہ آواز ہمیں نظر نہیں آرہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا لیڈر اس وقت تکلیف میں ہے، ہمارے پاس آپشنز ہیں جس پر غور کیا جا رہا ہے، آج ہماری پارٹی کی کور کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی اور تحریک تحفظ آیین پاکستان کی قیادت کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پر ہم لائحہ عمل بنائیں گے، 900 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں عمران خان کی طرف سے صحت کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی، آج اگر ہم آپ کو مدعو کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ بات سیریس ہے اور اس حوالے سے ہمیں بھی سنجیدہ اقدامات کرنے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کے لیے آواز اٹھانی ہے، اس ناجائز حکومت کے چنگل سے انہیں آزاد کروانا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ جو رپورٹ اچکزئی صاحب کو دیکھائی گئی وہ غلط تھی، یہ لوگ جھوٹے ہیں ہم ان کی بات پر آئندہ یقین نہیں کریں گے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان نے سب کو سہا ہے اور کسی سے کوئی شکایت نہیں کی، عمران خان کی آنکھ کی تکلیف تین ماہ سے شدت اختیار کر گئی ہے، جب ان کی آنکھ کی بینائی مکمل خراب ہو گئی تو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک بڑا سیاسی لیڈر جسے آپ نے جیل میں رکھا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ ایک سال سے بیٹھا کے اور مقدمات سننے سے قاصر ہے، جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو گیا ہے، ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم نے اس ملک میں ایسے ہی سسکنا ہے یا کھڑے ہو کر اپنی آواز بلند کرنی ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائے گا، جن معالجین پر ہمیں بھروسہ ہے ان کو علاج کرنے دیا جانا چاہیے، ان کو معلوم تھا کہ خان صاحب کی ایک آنکھ کی بینائی خراب ہو چکی ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہر صوبے کے عوام کو آگے بڑھنا ہے، پورے پاکستان کو اس پر رد عمل دینا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی عمران خان کو سہیل ا فریدی نے کہا کہ ا سلمان اکرم جنید اکبر ہے کہ ا رہا ہے کی صحت دیں گے نہیں ا ہیں کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :