عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی اس کی ذمہ دار حکومت ہے، یہاں تک معاملات نہ لے کر جائیں کہ باتیں پھر سڑکوں پر ہوں، ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے۔تفصیلات کے مطابق پریذائیڈنگ افسر سینیٹر وقار مہدی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایوان کے معمول کے ایجنڈے کی کارروائی معطل کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ایوان کی کاروائی کو معطل کیا جائے، یہاں ایوان میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر بیرسٹر سلمان صفدر نے ملاقات کرکے رپورٹ جمع کروائی ہے، اس رپورٹ کے مطابق اپریل تک بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک تھی اس کے بعد بانی پی ٹی آئی نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو اس صورتحال کے بارے میں بتایا تین ماہ تک ان کی اس بیماری پر کچھ نہیں کیا گیا جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی بینائی بالکل چلی گئی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا پمز اسپتال میں اس ڈاکٹر سے علاج کروایا جو اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں تھا، ان کو پمز اسپتال سے انجکشن لگوایا گیا، اس انجکشن کے بعد بھی بانی پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، انسان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کی دیت فقہ میں آدھے انسان کی دیت کے برابر ہے، ان کی اس بیماری کی ذمہ دار حکومت وقت ہے، راولپنڈی اسلام آباد میں اس بیماری کے دو ہی ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر عامر اور ڈاکٹر مظہر سہیل، ان سے علاج کروایا جائے، ان کی آنکھ کی اتنی بینائی چلی گئی یہ جرم ہوا ہے، اڈیالہ جیل پنجاب کی حدود میں آتا ہے، پنجاب حکومت ذمہ دار ہے، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوں ںے کہا کہ ظالم جو بھی ہو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، کوئی انسان اسے جائز قرار نہیں دے سکتا، جو بھی اس جرم کے حق میں عذر لائے گا وہ بھی ظالم ہوگا، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک جنگل بن جائے گا، ہم تمام دنیا کے سفیروں کو اس ظلم پر تحریر بھیجیں گے، یہاں تک معاملات نہ لے کر جائیں کہ باتیں پھر سڑکوں پر ہوں، پھر کتنے لوگوں کو گولی ماریں گے آپ؟ ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بینائی چلی گئی بانی پی ٹی ا ئی کھائیں گے ایک ا نکھ سڑکوں پر ان کی ا کی صحت
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔