سعودی آرامکو اور مائیکروسافٹ کا معاہدہ، صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دینے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
13 فروری 2026 کو سعودی آرامکو اور مائیکروسافٹ نے ایک غیر پابند مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو تیز کرنا، ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بڑھانا اور سعودی عرب کی ورک فورس کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں سعودی کمپنی آرامکو کا پیٹرول پمپ کھل گیا
مائیکروسافٹ کی معاونت سے یہ اقدامات سعودی آرامکو کی بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو ممکن بنانے کے لیے کیے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت آرامکو مائیکروسافٹ ایزور ٹیکنالوجیز پر مبنی AI حل دریافت کرے گی تاکہ آپریشنل افادیت میں اضافہ، عالمی مقابلہ میں بہتری اور ٹیکنالوجی سے فعال توانائی و صنعتی نظام کے نئے ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔
علاوہ ازیں، سعودی آرامکو اور مائیکروسافٹ ملک بھر میں ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتوں کی تیز رفتار ترقی کے لیے پروگرامز کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں اے آئی انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا گورننس اور پروڈکٹ مینجمنٹ شامل ہیں، اور ان کی پیشرفت قابلِ پیمائش ہوگی۔
مزید پڑھیں: آرامکو کی جانب سے پاکستان میں 50 فیول اسٹیشنز کی تکمیل کا اعلان
یہ اقدامات مائیکروسافٹ کے موجودہ قومی اثرات پر مبنی ہیں، جس میں سعودی طلبا کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پروگرامز میں ہزاروں افراد کی تربیت شامل ہے۔
یہ شراکت سعودی آرامکو کے صنعتی شعبے میں ڈیجیٹل انقلاب اور ملک کی ورک فورس کو جدید تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیجیٹل صلاحیتوں کا فروغ سعودی آرامکو مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی آرامکو مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت سعودی آرامکو مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔