خضدار کے قریب 3.8 شدت کا زلزلہ، پی ایم ڈی نے تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بلوچستان کے ضلع خضدار کے قریب درمیانی شدت کے زلزلے نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 13 فروری کو صبح 10 بج کر 52 منٹ پر آنے والے جھٹکوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.8 ریکارڈ کی گئی، جس کی شدت زیادہ نہیں تھی، تاہم شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
متعلقہ محکمے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق زلزلے کی گہرائی 33 کلومیٹر تھی، جب کہ اس کا مرکز خضدار سے تقریباً 75 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع تھا۔ ماہرین کے مطابق زیرِ زمین نسبتاً کم گہرائی میں آنے والے جھٹکے سطح پر زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں، تاہم اس بار شدت محدود رہی جس کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی نہیں ہوئی۔
مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا اور خوش قسمتی سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زلزلہ خیز پٹی میں واقع ہے، جہاں ماضی میں بھی مختلف شدت کے زلزلے آتے رہے ہیں۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ایسے درمیانے درجے کے جھٹکے زمینی پلیٹوں کی حرکت کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم عوام کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر سے آگاہ رہنا چاہیے۔ ضلعی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور مستند معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔