سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اورحکومتی پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اورحکومتی پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی۔عدالت نے وفاقی حکومت، نیپرااور لیسکو سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے فوری حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔جسٹس عابد حسین چٹھہ نے کیس کی سماعت کی،درخواست میں وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا وعدہ توڑ دیا،نئی پالیسی سیسولر سسٹم پر بھاری سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کا مستقبل داو پر لگ گیا،نیپرا کا نیا قانون جائیداد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میکں موقف اختیارکیاگیاہے کہ بجلی مہنگی خرید کر سستی فروخت کرنے کا فارمولا امتیازی سلوک ہے،عدالت پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنیاور نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد فوری روکنے کاحکم دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔