ٹیکنالوجی اب آپشن نہیں بلکہ معیشت کی بنیاد ہے، وفاقی وزیرتجارت
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان نے کہا ہے ٹیکنالوجی اب کوئی آپشن نہیں بلکہ معیشت کی بنیاد ہے، پاکستان کواے آئی، ڈیٹا اینالیٹکس اور آٹومیشن کے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیرتجارت جام کمال نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ پر مبنی صنعتی تبدیلی ،اکیڈیمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جدید انجینئرنگ اور تکنیکی مہارتوں میں سرمایہ کاری، سے عالمی مسابقت میں اضافہ ممکن ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ ، پارلیمنٹ اور ڈی چوک جانیوالے تمام راستے بند ، اراکین اسمبلی کی پولیس سے تکرار
وزیرتجارت جام کمال نے مزید کہا کہ اصلاحات میں تاخیر قومی معیشت کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، ملک کے معدنی وسائل، کاپر اور ریئر ارتھ عناصر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بروئے کار لانا ضروری قرار دیا۔
وزیر تجارت نے یہ بھی کہا کہ طلبہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں مہارت حاصل کریں، حکومت اسٹارٹ اپس، انوویشن ایکوسسٹم اور انڈسٹری اور اکیڈمیا تعاون کے فروغ کیلئے پُرعزم ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔