اسلام آباد: مساجد کے باہر گداگری اور اشیاء فروخت کرنے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت کی مساجد کی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی سے متعلق بھیجے گئے مراسلے کا باقاعدہ جواب جاری کر دیا ہے۔
پولیس کے جوابی مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ عبادت کے اوقات میں ہر مسجد میں کم از کم ایک مسلح سکیورٹی گارڈ کی تعیناتی یقینی بنائی جائے، اور گارڈ کو مسجد کی حدود میں اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔
مراسلے کے مطابق مساجد کے داخلی و خارجی راستوں اور اطراف میں پارکنگ کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں میں داخلے اور اخراج کے لیے ایک ہی راستہ مختص کیا جائے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی دروازے کے باہر ریڑھی بانوں، گداگروں اور ٹوپیوں سمیت دیگر اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ کسی بھی مشکوک شخص، سرگرمی یا سامان کی فوری اطلاع پولیس کو دینا لازم ہوگا۔
پولیس نے ہدایت کی ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ ان تمام احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے، بصورتِ دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔