لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے ایف بی آر کے سوموٹو اختیارات محدود کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ—فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سوموٹو اختیارات محدود کر دیے۔
درخواست پر فیصلہ جسٹس جواد حسن اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جاری کیا۔
ریفرنس کی درخواست شہری ساجد حسین گوندل کے خلاف دائر کی گئی تھی، جنہوں نے 2019ء کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے اور کمشنران لینڈ ریوینیو نےٹیکس آرڈیننس دفعہ 120 کے تحت گوشواروں کو ڈیمڈ ٹیکس اسیسمنٹ قرار دیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے قومی ایئرلائن کی نجکاری کے خلاف درخواست مسترد کردی گئی۔
جس پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ڈیمڈ ٹیکس اسیسمنٹ میں ترمیم کے اختیار کو محدود کر دیا۔
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے فیصلے میں کہا ہے کہ سیکشن 122(5A) کھلی چھٹی کا اختیار نہیں اور ٹیکس گوشواروں میں مبینہ غلطی ریکارڈ سے واضح اور قابلِ ثبوت ہونی چاہیے۔
بینچ کی جانب سے حسابی فرق یا قیاس آرائی پر کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریونیو مفاد کے نام پر بلاجواز ترمیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہر غلطی سیکشن 122(5A) کے تحت قابلِ اصلاح نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ راولپنڈی بینچ نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔