عمران خان کو آنکھوں کے معائنہ اور بچوں سے رابطے کی سہولت دینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی کی آنکھ کا چیک اپ اوربچوں سے فون پر بات 16 فروری سے پہلے کروائی جائے،سپریم کورٹ
طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے،کچھ کتابیں بھی مہیا کی جائیں، سلمان صفدر نے استدعا
سپریم کورٹ کی جانب سے بانیچیئرمین کیلئے بڑا ریلیف، عمران خان کو آنکھوں کے معائنہ اور بچوں سے رابطے کی سہولت دینے کا حکم جاری کر دیا گیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے کروایا جائے، بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے فون پر بات بھی 16 فروری سے پہلے کروائی جائے، اٹارنی جنرل نے عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی۔ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے۔ جبکہ اس موقع پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت اور فراہم کردہ سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی، اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، اور انہوں نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے اور انہوں نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی مانگی ہے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی دینے کیلئے تیار ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت اچھے موڈ میں ہے، عمران خان کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، وہ اس وقت سٹیٹ کسٹڈی میں ہیں، ان سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں، یہ نہیں کہیں گیکہ عمران خان کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ پر چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، رپورٹ میں پیش کی گئی دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیر التوا رکھیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت معاملے پر فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، بانی کی صحت کے معاملے پر بھی مناسب فیصلہ دیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، صحت کے معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں۔ عدالت نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معائنے کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی، دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کیے جائیں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بخوبی ذمہ داری نبھائی، فرینڈ آف دی کورٹ کے کردار کو سراہتے ہیں، حکومت کو بھی بہترین سہولیات فراہمی پر سراہتے ہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے سو سے زائد کالز اور میسجز آئے، میں نے کہا یہ کورٹ کی امانت ہے میں نہیں بتا سکتا ، یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے کروایا جائے، بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے فون پر بات بھی 16 فروری سے پہلے کروائی جائے، اٹارنی جنرل نے عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی۔ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے، تاہم سپریم کورٹ نے ان کی استدعا مسترد کردی۔سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں بھی مہیا کی جائیں، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیٔے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز اگر کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں گے تو فراہم کر دی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ بانی پی ٹی چیف جسٹس نے کہا کہ بانی پی ٹی ا ئی اٹارنی جنرل نے فروری سے پہلے سپریم کورٹ نے عمران خان کو کروایا جائے کی ا نکھ کا ا نکھوں کے معاملے پر نے عدالت بچوں سے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔