میزائل پروگرام ہماری ریڈ لائن ہے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
الجزیرہ سے اپنی ایک گفتگو میں ایڈمرل علی شمخانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی براہ راست حمایت کے بغیر اسرائیل کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی کونسل کے سربراہ ایڈمرل "علی شمخانی" نے کہا کہ ہمارے میزائل پروگرام کی دفاعی صلاحیتیں ملک کی ریڈ لائن ہے۔ جس پر کسی صورت مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ یہی ہماری دفاعی ڈاکٹرائن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ ہماری افواج ہائی الرٹ ہیں۔ اس لئے کسی بھی جانب سے کوئی غلطی نہایت نقصان دہ ثابت ہوگی۔ گفتگو کے دوسرے حصے میں انہوں نے علاقائی پیش رفت میں امریکہ کے کردار کا ذکر کیا۔
اس بارے میں ایڈمرل علی شمخانی نے کہا کہ واشنگٹن کی براہ راست حمایت کے بغیر اسرائیل کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن ہم پھر بھی کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقوں کو چاہئے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ بننے والے ہر قدم سے گریز کریں، یہی دانشمندی ہے۔ خطے میں جاری سفارتی تحرکات کا مقصد، سیاسی آپشنز کو مضبوط بنانا اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ ایرانی ڈیفنس کونسل کے سربراہ نے امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اگر مذاکرات حقیقت پسندانہ اور افراطی مطالبات کے بغیر ہوں تو وہ مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ نیز تمام فریقوں کے مفادات بھی پورا کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔