پنجاب میں غیرمعیاری لائف سیونگ ادویات، 10 مخصوص بیچزپر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) پنجاب میں فروخت ہونے والی جان بچانے والی ادویات سمیت 10 معروف ادویات غیرمعیاری قرار دے دی گئیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے متعلقہ ادویات کے مخصوص بیچز پر فوری پابندی عائد کر دی۔
ذرائع کے مطابق ادویات کے سیمپلز کو ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں جانچ کے لیے بھیجا گیا، جہاں رپورٹ میں 10 ادویات کا معیار انتہائی ناقص پایا گیا۔ غیرمعیاری قرار دی جانے والی ادویات میں الرجی، دل کے امراض، سکن انفیکشن، نزلہ زکام اور آنکھوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔
الرجی میں استعمال ہونے والی مخصوص دوا ’’ڈیزی‘‘ غیرمعیاری نکلی، جبکہ ہارٹ اٹیک کے خطرات کم کرنے والی دوا ’’ایسکاڈ‘‘ بھی مضر صحت قرار دی گئی۔ اسی طرح سکن انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ’’کیناڈیکس‘‘ کا استعمال بھی روک دیا گیا ہے۔
نزلہ زکام میں استعمال ہونے والی ادویات ’’سیپی زائن‘‘ اور ’’روزن‘‘ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ آنکھوں کے ڈراپس ’’نیفن‘‘ بھی غیرمعیاری قرار پائے۔ ہاتھ اور پاؤں کی باریک نسوں کے علاج میں استعمال ہونے والا ایک انجکشن بھی ناقص ادویات کی فہرست میں شامل ہے۔
یہ ادویات کراچی کے علاقے سائٹ ایریا اور منگھوپیر جبکہ لاہور کے سندر انڈسٹریل ایریا اور رائیونڈ روڈ پر قائم فارما کمپنیوں میں تیار کی گئی تھیں۔
ڈریپ کے مطابق تمام متعلقہ ادویات کے مخصوص بیچز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: استعمال ہونے والی میں استعمال ہونے والی ادویات
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔