بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 212 نشستوں پر کامیاب جیتنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز ملک بھر میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے واضح کامیابی حاصل کر لی ہے۔
الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ حتمی اعداد و شمار کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور ووٹرز کی بڑی تعداد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے نامزد وزیراعظم طارق رحمان کی جماعت نے ملک بھر میں بھرپور عوامی حمایت حاصل کی۔
تاہم طارق رحمان کی جانب سے انتخابی نتائج پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جبکہ بی این پی قیادت نے کارکنان اور عوام سے جشن منانے کے بجائے سجدہ شکر ادا کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ادھر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) توقعات کے برعکس خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی اور 30 میں سے صرف 5 نشستیں جیت پائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج ملکی سیاست میں ایک نئی صف بندی اور طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کیے ہیں اور احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، تاہم ساتھ ہی جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے سیاست برائے سیاست کے بجائے تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کی قومی اسمبلی (جاتیا سنگساد) کے 299 حلقوں میں انتخابات منعقد ہوئے جبکہ ایک حلقے میں جماعت اسلامی کے امیدوار کے انتقال کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی، ان انتخابات کے نتائج کو بنگلادیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بی این پی کے مطابق
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔