وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان قابل مذمت، مسلک اہل حدیث کبھی دہشتگردی میں ملوث نہیں رہا، قاضی عبدالقدیر خاموش
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سرپرست جمعیت اہل حدیث نے کہا کہ اس سانحہ میں وزیراعظم سے لے کر وزیر داخلہ، آئی جی تک تمام فوٹو سیشن کے لیے مسجد خدیجة الکبریٰ اسلام آباد جاتے رہے ہیں، انہیں عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں چاہیئے کہ وہ عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کریں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سرپرست اور اے آر ڈی کے سابق سیکرٹری جنرل قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا ہے کہ مسجد خدیجة الکبریٰ اسلام آباد کا سانحہ افسوسناک ہے، دہشت گردی کرنے والوں کو مسلمان تو دور کی بات، ہم انہیں انسان ہی نہیں تسلیم کرتے، وزیر دفاع خواجہ آصف خان کا سلفی مسلک کے خلاف بیان قابل مذمت ہے، انہیں تاریخی پس منظر کا مطالعہ کر کے بات کرنی چاہیئے، مسلک اہل حدیث کبھی بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں رہا۔ میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے کہا حکومت کو بیانات کم اور کام زیادہ کرنا چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سانحہ میں وزیراعظم سے لے کر وزیر داخلہ، آئی جی تک تمام فوٹو سیشن کے لیے مسجد خدیجة الکبریٰ اسلام آباد جاتے رہے ہیں، انہیں عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں چاہیئے کہ وہ عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کریں۔ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی موجودگی میں دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعہ کا ہو جانا ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟اس کا احتساب ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا واقعہ کی وجوہات اور متاثرین کی مدد کی بجائے، حکومتی شخصیات کو بلند کرنے کا نظریہ اپنایا جا رہا ہے، ہمیں گروہی اور جماعتی وابستگیوں سے بلند ہوکر بلاامتیاز سوچنا پڑے گا اور مثبت سوچ کو اپنانا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔