فلپائن کی فوڈ انفلوئنسر کی پراسرار موت، کیا وجہ ’’ڈیول کریب‘‘ ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
فلپائن میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے سمندری خوراک کے شوقین افراد کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خصوصاً زہریلے سمندری کیکڑوں اور دیگر خطرناک آبی حیات کو کھانے سے گریز کریں۔
یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا جب ایک معروف فوڈ انفلوئنسر کی موت کے بعد شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ’’ڈیول کریب‘‘ نامی زہریلا کیکڑا کھایا تھا۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 51 سالہ فوڈ انفلوئنسر ایما امِٹ 4 فروری کو اپنے سوشل میڈیا مواد کے لیے ساحلی علاقے سے سمندری جاندار جمع کرنے گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے صوبہ پالاون کے ساحلی شہر Puerto Princesa کے قریب واقع مینگروو جنگل سے مختلف اقسام کی شیلفش اکٹھی کیں۔
ویڈیو میں ایما کو اپنے دوستوں کے ساتھ سمندری گھونگھے اور دیگر آبی جاندار ناریل کے دودھ میں پکا کر کھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم اگلے ہی روز ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ پڑوسیوں کے مطابق انہیں شدید جھٹکے لگے، جس پر انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں وہ بے ہوش ہو گئیں اور ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے، جو شدید زہر کے اثرات کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
A food influencer named Emma Amit (51) from the Philippines (Palawan/Puerto Princesa area) reportedly died after eating a highly toxic "devil crab" while filming content for social media.
ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ چھ فروری کو، یعنی مبینہ طور پر زہریلا سمندری جاندار کھانے کے دو دن بعد انتقال کرگئیں۔ واقعے کے بعد مقامی گاؤں لُوزویمِنڈا کی سربراہ لیڈی جیمنگ نے تحقیقات کے لیے حکام کو متوفیہ کے گھر بھیجا۔ تلاشی کے دوران کچرے سے چمکدار خول والے ’ڈیول کریب‘ کی باقیات برآمد ہوئیں، جس کے بعد شبہ مزید گہرا ہوگیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص کیکڑا انڈو پیسیفک ریف علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اس کے جسم میں خطرناک نیورو ٹاکسنز، جیسے سیگزٹوکسن اور ٹیٹروڈوٹوکسن موجود ہوتے ہیں۔ یہی زہریلے اجزا Pufferfish (فُگو مچھلی) میں بھی پائے جاتے ہیں اور چند گھنٹوں کے اندر جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
گاؤں کی سربراہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایما اور ان کے شوہر دونوں تجربہ کار ماہی گیر تھے، اس لیے یہ واقعہ مزید حیران کن ہے۔ ان کے بقول، چونکہ وہ سمندر کے قریب رہتے تھے، اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ’’ڈیول کریب‘‘ خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے تجربے کے باوجود یہ خطرہ کیوں مول لیا گیا۔
حکام نے شہریوں کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ ایسے مشکوک یا زہریلے سمندری جانداروں کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں۔ ان کے مطابق اس مہلک کیکڑے کے باعث ماضی میں بھی شہر میں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ مزید برآں، متوفیہ کے ساتھ موجود افراد کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اگر کسی میں زہر کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔