گلگت، پیشی سے واپسی پر ملزم کو عدالت کے باہر قتل کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ترجمان کے مطابق پولیس نے فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث ملزم اظہار اللہ کو اسلحہ آتشیں سمیت موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔ مقتول کی نعش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت میں عدالت میں پیشی کیلئے لائے جانے والے ملزم کو عدالت کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے فائرنگ کرنے والے ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔ ترجمان گلگت پولیس کے مطابق تھانہ جگلوٹ گلگت میں مسمات مدیحہ دختر زبیر احمد سکنہ ڈروٹ جگلوٹ کے اغواء کے حوالے سے مقدمہ علت نمبر 17/2026 بجرائم 496، 494، 34 ت پ درج رجسٹر کیا گیا تھا، جس میں نامزد ملزم فرمان اللہ ولد عبد القدوس سکنہ ڈروٹ جگلوٹ کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ آج عدالت کے باہر ملزم فرمان اللہ کو پیشی کے سلسلہ میں لایا گیا تھا۔ پیشی کے بعد ملزم کو اے پی سی (APC) منتقلی کے دوران اظہار اللہ ولد عبد الباقی سکنہ ڈروٹ جگلوٹ نے مسلح ہو کر اچانک فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں فرمان اللہ موقع پر جاں بحق ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس نے فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث ملزم اظہار اللہ کو اسلحہ آتشیں سمیت موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔ مقتول کی نعش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس افیسر گلگت اسحاق حسین (پی ایس پی) نے واضح کیا ہے کہ دوران ڈیوٹی غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب واقعے کے بعد وکلاء اور مقامی شہریوں نے احتجاج کیا اور اس واقعے کو پولیس کی ناکامی قرار دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس کی موجودگی میں دن قتل سوالیہ نشان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیا گیا ملزم کو کے بعد
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔