روزانہ پستے کھانے کے حیرت انگیز صحت بخش اثرات
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پستے نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق پستے دل کی صحت، وزن کے کنٹرول اور توانائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پستے اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسمانی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں اور جلد و بال کی صحت کے لیے بھی مفید ہیں۔ پستے دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ یہ کولیسٹرول کی سطح کو قابو میں رکھنے اور خون کی شریانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے بھی پستے مفید ہیں، کیونکہ یہ بھوک کو قابو میں رکھتے ہیں اور جسم کو طویل عرصے تک توانائی فراہم کرتے ہیں۔ پستے میں موجود پروٹین اور فائبر نظام ہضم کو بہتر بناتے ہیں اور بلڈ شوگر کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ روزانہ چند پستے کھانے سے دماغی صحت میں بھی بہتری آتی ہے اور یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں پستے ہڈیوں کو مضبوط بنانے، آنکھوں کی صحت بہتر کرنے اور اینٹی ایجنگ کے اثرات کے لیے بھی مفید ہیں۔
طبی ماہرین کی ہدایت ہے کہ پستے بغیر نمک اور تلی ہوئے کھائیں تاکہ ان کے غذائی فوائد برقرار رہیں اور صحت پر مثبت اثر ڈالیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے بھی کرتے ہیں ہیں اور
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔