اسرائیل کے حامی منہ تکتے رہ گئے، برطانوی عدالت میں فلسطینیوں کی بڑی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
تین رکنی بینچ نے طویل سماعت کے بعد آج فیصلہ سناتے ہوئے میں کہا کہ فلسطین ایکشن پر حکومتی پابندی غیر قانونی تھی، فیصلہ سناتے ہوئے جج وکٹوریہ شارپ نے کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں میں دہشت گردی کا تاثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی ہائی کورٹ نے اسرائیلی مظالم کے خلاف مؤثر اُٹھانے والی متحرک تنظیم فلسطین ایکشن کے حق میں بڑا فیصلہ دیدیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین ایکشن نامی سرگرم تنظیم پر برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں جس پر گروپ نے عدالت سے رجوع کیا۔ جس پر تین رکنی بینچ نے طویل سماعت کے بعد آج فیصلہ سناتے ہوئے میں کہا کہ فلسطین ایکشن پر حکومتی پابندی غیر قانونی تھی، فیصلہ سناتے ہوئے جج وکٹوریہ شارپ نے کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں میں دہشت گردی کا تاثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومتی پابندی سے آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ وہ وزیرِ داخلہ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا حکم جاری کرے گی۔
تاہم برطانوی عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اس لیے قانونی عمل مکمل ہونے تک تنظیم پر فی الحال پابندی برقرار رہے گی۔ برطانوی وزیرِ داخلہ نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین ایکشن پر پابندی ایک جامع اور شواہد پر مبنی عمل کے بعد لگائی گئی تھی جس کی پارلیمان نے توثیق بھی کی تھی۔ عدالتی فیصلے پر فلسطینی پرچم لہرائے اور کفایہ اسکارف پہنے کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا، نعرے بازی کی اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ یاد رہے کہ جولائی میں برطانوی حکومت نے فلسطین ایکشن نامی تنظیم کو اُن گروہوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن میں حماس اور حزب اللہ بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں فلسطین ایکشن کی رکنیت اختیار کرنا یا اس کی حمایت میں مظاہرہوں میں شامل ہونا بھی سنگین فوجداری جرم قرار دیا تھا جس کی سزا 14 سال تک قید ہو سکتی تھی۔ خیال رہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں اکثریت ایسے افراد کی تھی جنھوں نے اس تنظیم کے حق میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ ان تک ایسے سیکڑوں افراد پر فردِ جرم بھی عائد کی جا چکی ہے اور وہ مختلف عدالتوں میں پیشی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصلہ سناتے ہوئے فلسطین ایکشن کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔