WE News:
2026-07-24@01:57:12 GMT

برطانیہ کی ’فلسطین ایکشن گروپ‘ پر پابندی غیر قانونی قرار

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

 

 

لندن کی ہائیکورٹ نے جمعہ کو برطانیہ کی اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا جس میں فلسطینی حمایت کرنے والے ’فلسطین ایکشن گروپ‘ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، پابندی عارضی طور پر برقرار رہے گی اور حکومت نے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی فلسطین کے لیے 29ویں امدادی کھیپ روانہ، 100 ٹن خوراک لاہور سے بھیجی گئی

ہائیکورٹ کی جسٹس وکٹوریا شارپ نے کہا کہ فلسطین ایکشن گروپ ایک ایسا گروپ ہے جو اپنے سیاسی مقصد کو جرم اور جرائم کو بڑھاوا دے کر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن عدالت نے پابندی کو اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی میں غیر مناسب مداخلت قرار دیا۔

BREAKING: The British government's ban on pro-Palestinian campaign group Palestine Action as a terrorist organization is unlawful, London's High Court ruled after a legal challenge by the group's co-founder https://t.

co/7S0IE6Syyo pic.twitter.com/rW5a6H7EKs

— Reuters (@Reuters) February 13, 2026

فی الحال پابندی برقرار رہے گی، یعنی گروپ کی حمایت ظاہر کرنا اب بھی جرم ہے اور ممبر بننے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ برطانوی وزیر شبانہ محمود نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں لڑائی جاری رکھیں گی۔

فلسطین ایکشن گروپ کیا ہے؟

فلسطین ایکشن گروپ جولائی 2020 میں قائم ہوا اور خود کو اس مہم کا حصہ قرار دیتا ہے جو اسرائیل کے نسل کش اور اپارتھائیڈ نظام میں عالمی شرکت ختم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ گروپ نے اسرائیل کے لیے ہتھیار بنانے والی کمپنیوں جیسے Elbit Systems (اسرائیل)، Leonardo (اٹلی)، Thales (فرانس) اور Teledyne (امریکہ) کے خلاف مداخلت اور احتجاجی کارروائیاں کی ہیں۔

2022 میں گروپ نے گلاسگو میں Thales کی فیکٹری میں داخل ہو کر ہتھیاروں کو نقصان پہنچایا جس کی مالیت ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ تھی۔ 2021 میں گروپ کے اراکین نے Leicester میں Elbit Systems کی چھت پر چھ دن تک احتجاج کیا، جس کے بعد کئی افراد گرفتار ہوئے۔

Elbit Systems نے بتایا کہ ان کے ڈرون، جو غزہ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے، اسرائیل کے ڈرون بیڑے کی بنیاد ہیں اور فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل برطانیہ فلسطین ایکشن گروپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل برطانیہ فلسطین ایکشن گروپ

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم