WE News:
2026-06-03@02:31:50 GMT

برطانیہ کی ’فلسطین ایکشن گروپ‘ پر پابندی غیر قانونی قرار

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

 

 

لندن کی ہائیکورٹ نے جمعہ کو برطانیہ کی اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا جس میں فلسطینی حمایت کرنے والے ’فلسطین ایکشن گروپ‘ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، پابندی عارضی طور پر برقرار رہے گی اور حکومت نے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی فلسطین کے لیے 29ویں امدادی کھیپ روانہ، 100 ٹن خوراک لاہور سے بھیجی گئی

ہائیکورٹ کی جسٹس وکٹوریا شارپ نے کہا کہ فلسطین ایکشن گروپ ایک ایسا گروپ ہے جو اپنے سیاسی مقصد کو جرم اور جرائم کو بڑھاوا دے کر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن عدالت نے پابندی کو اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی میں غیر مناسب مداخلت قرار دیا۔

BREAKING: The British government's ban on pro-Palestinian campaign group Palestine Action as a terrorist organization is unlawful, London's High Court ruled after a legal challenge by the group's co-founder https://t.

co/7S0IE6Syyo pic.twitter.com/rW5a6H7EKs

— Reuters (@Reuters) February 13, 2026

فی الحال پابندی برقرار رہے گی، یعنی گروپ کی حمایت ظاہر کرنا اب بھی جرم ہے اور ممبر بننے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ برطانوی وزیر شبانہ محمود نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں لڑائی جاری رکھیں گی۔

فلسطین ایکشن گروپ کیا ہے؟

فلسطین ایکشن گروپ جولائی 2020 میں قائم ہوا اور خود کو اس مہم کا حصہ قرار دیتا ہے جو اسرائیل کے نسل کش اور اپارتھائیڈ نظام میں عالمی شرکت ختم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ گروپ نے اسرائیل کے لیے ہتھیار بنانے والی کمپنیوں جیسے Elbit Systems (اسرائیل)، Leonardo (اٹلی)، Thales (فرانس) اور Teledyne (امریکہ) کے خلاف مداخلت اور احتجاجی کارروائیاں کی ہیں۔

2022 میں گروپ نے گلاسگو میں Thales کی فیکٹری میں داخل ہو کر ہتھیاروں کو نقصان پہنچایا جس کی مالیت ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ تھی۔ 2021 میں گروپ کے اراکین نے Leicester میں Elbit Systems کی چھت پر چھ دن تک احتجاج کیا، جس کے بعد کئی افراد گرفتار ہوئے۔

Elbit Systems نے بتایا کہ ان کے ڈرون، جو غزہ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے، اسرائیل کے ڈرون بیڑے کی بنیاد ہیں اور فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل برطانیہ فلسطین ایکشن گروپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل برطانیہ فلسطین ایکشن گروپ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت