عید کے بعد ملک بھر میں عوامی مہم چلائی جائے گی، مولانا فضل الرحمان کی حافظ نعیم کے ہمراہ گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں عوامی مہم چلائی جائے گی۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ملاقات میں چند امور پر ہم نے مشاورت کی ہے، 19 فروری کو بورڈ آف پیس کا اجلاس اصل میں اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہے، یہ عالمی ادارے کی افادیت کو چیلنج کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کہہ چکی ہے، ایجنڈے میں تبدیلی لائی گئی تھی، اس کے باوجود اس فورم پر جانا ٹھیک نہیں، نیتن یاہو قاتل اور سفاک ہے، لاکھوں لوگوں کو قتل کیا گیا اور فلسطینیوں کی لاشیں اب بھی کھنڈرات میں دبی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں ہم اس سفاک کے ساتھ امن کی بات کرنے جا رہے ہیں، عوام سے کہتے ہیں ملی جذبے کا احترام کریں، ایسے اقدامات کیے جائیں کہ عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق نہ کیا جائے گا، اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم پھر آزادی کی تاریخ دہرانے کے لیے باہر نکلیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے آئندہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، عید الفطر کے بعد پورے ملک میں عوامی مہم چلائی جائے گی، جمعیت علمائے اسلام نے 12 مارچ کو مردان میں جلسے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مرتبہ فلسطینیوں کا قتل عام کرچکا ہے، کیا ہم دوبارہ وہاں جاکر وہی کریں گے، جب آپ حماس کو غیرمسلح کریں گے تو آپ مسلمانوں سے لڑیں گے، ہم حکومت کو کوئی مہلت دینے کو تیار نہیں کہ وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق نہ کیا جائے گا، اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم پھر آزادی کی تاریخ دہرانے کے لیے باہر نکلیں گے، ان اطوار کے ساتھ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پاکستان ناکام خارجہ پالیسی چلا رہا ہے جہاں تمام ہمسائیہ ممالک اور دوست ناراض ہیں، یہ پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی ہے کہ بھارت سے بھی دشمنی اور افغانستان سے بھی ناراضی، افغان حکومت سے کہنا چاہتے ہیں پاکستان سے بہتر تعلقات کے لیے بات چیت کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کر چکا جس سے فلسطینی بھولے نہیں ہیں، کیا آپ ایک بار بھر وہی عمل دہرائیں گے، فلسطین میں فوج بھیجنا پاکستان کو اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں چین اور روس کے خلاف پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے، ہمیں مسائل کا مستقل حل نکالنا ہوگا کہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہ سکیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی، مسلح کارروائیاں پاکستان میں چار دہائیوں کا مسئلہ ہے، ہم نے اس طرح کے آپریشنز کی مخالفت کی تھی لیکن ان آپریشنز کے باوجود یہ عوام کو امن کیوں نہیں دے سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم تمام معاملات میں سعودی عرب اور ترکیے کے پیچھے چلتے ہیں، پاکستان سعودی عرب اور ترکیے کو قائل کرسکتا ہے، امن بورڈ کے تحت بننے والی اس فورس کی قیادت اور کمانڈ امریکا کے ہاتھ میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی ان کی مخالفت مول نہیں سکتے تو اس وقت کیا مول لیں گے، ہم نے عراق فوج بھیجنے سے انکار کیا تھا تو ہم آج بھی کرسکتے ہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پاکستان میں مسلح گروپس کی کارروائیوں پر ہمیں افغانستان اور ایران سے بات کرنی چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے اجلاس پر ہمیں تشویش ہے، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورت حال پر گفتگو ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے اجلاس پر ہمیں تشویش ہے، پاکستان نے امن بورڈ کی رکنیت لے لی ہے جس میں اسرائیل بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھتے ہیں کیا آپ اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں، انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے بارے میں ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان کو اس میں شامل ہونے کا کہا جائے گا، یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی فورس اس فورس کا حصہ بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورت حال پر بات کی ہے، پاکستان کو کسی ایسی جنگ میں نہیں جانا چاہیے جس سے پاکستان کو فائدہ نہ ہو، پاکستان نے بورڈ کا ممبر بننا قبول کیا اور شرکت کی دعوت بھی قبول کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گی، کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف کا حصہ بنے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے جمعیت علمائے اسلام حافظ نعیم الرحمان الرحمان نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ہم پاکستان کو پاکستان کے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔