کس ادارے نے منافع کمایا اور کس نے نقصان اٹھایا؟ تفصیل آگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
وزارت خزانہ نے نفع و نقصان میں چلنے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی فہرست جاری کردی۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق حکومتی کمپنیوں نے مالی سال 25-2024ء میں سرکاری خزانے کو 833 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس سے پچھلے مالی سال میں 851 ارب کا مجموعی نقصان ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 295 ارب اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 112 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
پیسکو کو 92 ارب 70 کروڑ روپے، ریلویز کو 60 ارب، نیشنل پاور پارکس کمپنی 46 ارب اور نیلم جہلم پاور کمپنی کو 29 ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیل مل کو 26 ارب، سیپکو 25 ارب 31 کروڑ، پاکستان پوسٹ کو 19 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاسکو کو 19 ارب، حیسکو کو 13 ارب، لیسکو کو 12 ارب 70 کروڑ، جنکو ٹو کو 10 ارب، نیشنل انشورنس کارپوریشن کو 3 ارب اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو 2 ارب روپے کے نقصانات ہوئے ہیں۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پورٹ قاسم کو 35 ارب، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی کو 170 ارب روپے کا منافع ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان پیٹرولیم کو 90 ارب، واپڈا کو 56 ارب 70 کروڑ، گورنمنٹ ہولڈنگ کو 48 ارب، کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 35 ارب 50 کروڑ روپے منافع ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق روپے کا نقصان ارب 70 کروڑ کروڑ روپے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔