ٹرمپ نے اوباما دور کا فیصلہ منسوخ کردیا؛ پاکستان اور دیگر ممالک کو کیا نقصان ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما کا ایک اہم فیصلہ منسوخ کر دیا جس نے عالمی سطح پر تشویش ک جنم دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرٹرمپ نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق برسوں سے رائج ایک اہم اور بڑی پالیسی کو یکسر منسوخ کرکے نئی پالیسی پیش کردی۔
اوباما کے دور 2009 میں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس میں گرین ہاؤس گیسوں کو عوامی صحت اور فلاح کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
اسی بنیاد پر امریکا میں کاربن اخراج کم کرنے کے متعدد وفاقی قوانین متعارف کروائے گئے جن میں گاڑیوں کے کاربن کے اخراج سے متعلق سخت ضوابط بھی شامل تھے۔
تاہم اب صدر ٹرمپ نے ان ضوابط کو تبدیل کردیا جس کا مقصد بقول وائٹ ہاؤس غیر ضروری ضابطہ کاری کو ختم اور امریکی معیشت کو فروغ دینا ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی ضوابط میں نرمی سے گاڑیاں سستی ہوں گی اور آٹو انڈسٹری کو فی گاڑی تقریباً 2400 ڈالر تک لاگت میں کمی کا فائدہ ہوگا۔
وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے ٹرمپ کی اس نئی پالیسی کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈی ریگولیشن قرار دیا ہے۔
البتہ ماحولیاتی تنظیموں اور ماہرین نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں پر شدید دھچکا قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2009 کا فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کے ایک تاریخی مقدمے کے بعد سامنے آیا تھا جس نے وفاقی حکومت کو گرین ہاؤس گیسوں کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار دیا تھا۔
کئی ماحولیاتی گروپوں نے ٹرمپ کے فیصلے کو عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا باعث قرار دیتے ہوئے نئی پالیسی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
پاکستان اور دیگر ممالک پر ممکنہ اثر
ماہرین موسمیات کے مطابق اگر دنیا کی بڑی معیشتیں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے وعدوں سے پیچھے ہٹتی ہیں تو اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ پڑیں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے اور ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی حدت کے فرنٹ لائن پر ہیں۔
بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید بارشیں، تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک کی معیشت اور زرعی نظام پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کاربن اخراج میں کمی کے اقدامات کمزور پڑنے سے زرعی پیداوار، خوراک کی دستیابی اور پانی کے ذخائر مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ جس کے براہِ راست اثرات متعدد ممالک کی غذائی سلامتی پر بھی پڑسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔