لکی مروت میں فتنہ الخوارج کا ڈرون حملہ، 2 پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے کواڈ کاپٹر (ڈرون) کے ذریعے پولیس پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کی حالت خطرے سے باہر قرار دی۔
واقعے کے بعد بنوں ریجن کے ڈی آئی جی سجاد خان کی ہدایات پر لکی مروت پولیس، امن کمیٹی اور بنوں پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے حملہ آوروں کا ایک کواڈ کاپٹر مار گرایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کا جدید ڈرون فضا میں بلند ہوتے ہی دہشت گردوں کے ڈرون پسپا ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آوروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔