رمضان زندگی کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی کا نام ہے،طلعت ندیم
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)رمضان المبارک ’شہر المواساۃ‘ہے۔ یہ مہینہ ہمیں باہمی تعلقات میں نرمی، ایثار اور احسان کے رویے کو اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ناظمہ ضلع گلبرگ وسطی طلعت ندیم نے استقبالِ رمضان کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا، رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے جو ہمیں تقویٰ، صبر اور خود احتسابی کا عملی درس دیتا ہے۔ انہوں نے تقویٰ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھنے کا نام ہے۔ اس موقع پر بالخصوص ملازمت پیشہ خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپنی مصروفیت کے اوقات میں اخلاص کے ساتھ قرآن کو سمجھنے اور اس سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کچھ وقت ضرور نکالیں ان شاء اللہ یہ عمل آپ کیلئے برکت کا سبب بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ روزہ شخصیت سازی کا بہترین ذریعہ ہے یہ گناہوں سے بچنے، ذمہ داریوں میں دیانت داری اور چھوٹی بڑی لغزشوں سے ہوشیار رہنے میں مدد دیتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ اور سخاوت اس ماہِ مبارک کی روح ہے، یہ مہینہ امتِ مسلمہ کو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ وہ جسدِ واحد کی مانند ہے۔ دنیا بھر میں ایک ہی وقت میں عبادات، قیامْ اللیل، زکوٰۃ و فطرانہ کی ادائیگی اور عید کی نماز کا اہتمام اس وحدت کی عظیم الشان عملی مثال ہے، جو ہمیں باہمی اتحاد و یکجہتی کا شعور دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دیتا ہے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔