عدالت عظمیٰ میں عمران خان کے 6 مقدمات سماعت کیلیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260214-08-17
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 6 کیسز، بشریٰ بی بی اور شاہ محمود قریشی کے ایک ایک کیس کو سماعت کے لیے مقرر کرلیا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی بینچ کا حصہ ہیں۔ رجسٹرار کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے6، بشریٰ بی بی اور شاہ محمود قریشی کے 1،1 کیس پر 18 فروری کو سماعت ہوگی۔ جس کیسز کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اْن میں توشہ خانہ فوج داری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرنے کی درخواست بھی ہے۔ علاوہ ازیں بانی تحریک انصاف کی ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا گیا جبکہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ سائفر کیس میں بانی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل، 9 مئی لاہور مقدمات میں بانی کی ضمانت کے خلاف سرکاری درخواست اور ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی کی اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو سماعت کے لیے مقرر کے خلاف گیا ہے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔