عمران خان کے 6 کیسز سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سٹی 42 : بانی پی ٹی کے کیسز کے حوالے سے بڑی خبر آگئی ، عمران خان کے 6 کیسز سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دیئے گئے ، شاہ محمود قریشی کا بھی ایک کیس سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے ،جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ سماعت کرے گا ۔
کیسز 18 فروری کو سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ، توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطلی کی بجائے سزا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی
بانی تحریک انصاف کی ضمانت کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل، بشریٰ بی بی کی ضمانت کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل ، سائفر کیس میں بانی اورشاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل پر سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
9 مئی لاہور مقدمات میں بانی کی ضمانت کیخلاف سرکار کی اپیل، ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کیخلاف بانی کی اپیلیںسماعت کے لیے مقرر کی ہیں ،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان کیسز پر 9 فروری کو تین رکنی بینچ بنانے کی ہدایت کی تھی۔
علی امین گنڈاپور کا عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ کرنے کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سماعت کے لیے مقرر کی کی اپیل
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :