data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مقامی ہوٹل میں ’’کراچی‘ بدحالی سے بحالی تک‘‘ کے عنوان سے’’ کراچی اسٹیک ہولڈرزرائونڈ ٹیبل کانفرنس ‘‘سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بدترین حکمرانی ، بد انتظامی ، نا اہلی اور کرپشن ہے ،سیاست و حکومت کے نام پر وڈیروں و جاگیرداروں کا تسلط ہے جو کراچی کے وسائل اور اداروں پر قابض ہیں ، یہ قابض ٹولہ اب اہل کراچی کی آواز بھی دبانا چاہتا ہے ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کراچی پر مزید 20سال بھی مسلط رہیں تو مسائل حل نہیں ہوں گے ، جب تک ہم وڈیروں ، جاگیرداروں اور حکمرانوں کے گٹھ جوڑ سے نجات حاصل نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہو سکتے ، اسٹیبلشمنٹ کو بھی جواب دینا ہوگا جس نے کراچی کے عوام پر مسترد شدہ لوگوں کو مسلط کیا، بلدیاتی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور میئر شپ کو چھینا گیا ، کراچی کے عوام کا حق ہے کہ ان کو میگا سٹی حکومت دی جائے ،18ویں ترمیم کے مطابق اختیارات و وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں ، آرٹیکل 140-Aکے تحت بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی اختیارات دیئے جائیں ، جماعت اسلامی کراچی کے حق ، مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کے لییآج سندھ اسمبلی پر دھرنا دے گی ، کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز ہمارے ساتھ مل کر جدو جہد و مزاحمت کریں اور سڑکوں پر آئیں تو کوئی حکومت و اسٹیبلشمنٹ ہمارا راستہ نہیں روک سکے گی اور کراچی کو اس کا حق دینا پڑے گا ۔راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر،ایس بی سی اے کمیٹی کے ممبر عارف قاسم،سابق سینئر نائب صدر فیڈریشن چیمبرآف کامرس سلمان چاولہ،سابق وائس پریذیڈنٹ چیمبر آف کامرس شبیر منشا ، فباٹی کے صدر شیخ تحسین ،فباٹی کے سابق صدر بابر خان،لکی ون مال کے سی ای او سعد زبیری، اربن پلانر انجینئر فرحت عادل،جنرل سیکرٹری کراچی پریس کلب اسلم خان ، سی ای او گروسیف سعد عبد الوہاب،سینئر صحافی و جرنلسٹ منزہ صدیقی نے بھی خطاب کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسئلے کی تشخیص درست نہیں ہوگی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کراچی انفرااسٹرکچر سیس اور ڈیولپمنٹ بجٹ کے 3360 ارب روپے کراچی پر خرچ نہیں ہوئے۔ کراچی کو ایسے اسٹیک ہولڈرز کی ضرورت نہیں جو اسٹبلشمنٹ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ڈھائی سال قبل کراچی کے شہریوں کی جانب سے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ دینے کے باوجود انتخابات پر ڈاکا ڈالااور میئر شپ بھی چھینی گئی، جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے،55 ارب روپے کے بجٹ کے ساتھ جماعت اسلامی کا مئیر ہوتا تو کراچی کا یہ حال ہر گز نہیں ہوتا؟ جماعت اسلامی کے 9 ٹاونز میں سرکاری اسکول بحال اور پارکس بنائے گئے ، سڑکوں کی مرمت کا کام کیا جارہا ہے۔ ہم اپنے حصے کا کام اختیار ات سے بڑھ کر کام کررہے ہیں، صوبے بنانے کے لیے زرداری ، نواز شریف، ایم کیو ایم سے بات کر کے جتنے صوبے بنانے ہیں بنائیں عوام کو کیوں لڑایا جاتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں سب سے بہتر نظام 2001 والا تھا۔ موجودہ نظام میںسندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سابق یوسیز کی بنیاد پر کام کررہا ہے اس ادارے کاٹاؤنز و ویوسیز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس اختیار نہیں ہے اس کے باوجود کام کرا رہے ہیں ،ہم اپنی نسلوں کو برباد نہیں کراسکتے، اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے لڑیں گے اور جدوجہد و مزاحمت کریں گے۔ عتیق میر نے کہا کہ کراچی میںکوئی بھی شعبہ یا حکومتی ادارہ ایسا نہیں جو بہتر کام کررہا ہو، ہم 17 سال سے آواز اُٹھا رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ سندھ میں سیلاب آیا تو 95 فیصد سندھ ڈوب گیا کوئی پوچھنے والا نہیں، اب وقت آگیا ہے کہ جن لوگوں نے عذاب مسلط کیا ہے انہیں مجبور کیا جائے کہ اب کراچی کا حق دو یا پیچھے ہٹ جاؤ۔ عارف قاسم نے کہا کہ ہر ادارے میں کرپشن اور لوٹ مار ہے، مسئلہ ایتھکس کا ہے انجینئرنگ کا نہیں ہے۔ سلمان چاولہ نے کہا کہ مسائل سے زیادہ اس کے حل کے لیے بات کرنے کی ضرورت ہے، کراچی کا المیہ یہ ہے کہ اس کی کوئی اونر شپ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں جس نے شہر کے لیے آواز اٹھائی۔ شبیر منشا نے کہا کہ کراچی کے عوام جس اذیت کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے، ایک ہی شہر میں بہت سارے ادارے ہیں سمجھ نہیں آتا کہ کس کے پاس جاکر سوال کیا جائے؟ سب سے بڑا مسئلہ کراچی کی آبادی کا ہے جو ابھی تک درست گنی ہی نہیں گئی۔ کراچی میں بلڈنگز کا طوفان آرہا ہے اور سب بغیر کسی پلاننگ کے ہورہا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں ہوتی۔تاجر کمیونٹی 280 ارب روپے سالانہ انفرااسٹرکچر سیس‘ کی مد میں علیحدہ سے ادا کر تی ہے ۔ ہمیں کوئی احسان نہیں چاہیے، ہمیں ہمارے پیسوں سے اپنی مرضی سے کام کرنے دیا جائے۔ شیخ تحسین نے کہا کہ حقیقت میں کراچی صرف شہر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی حب ہے مگر کراچی کو نظر انداز کیا گیا ہے، کراچی گزشتہ کئی سال سے تنزلی کا شکار ہے۔ کراچی میں کوئی ماسٹر پلان موجود نہیں ہے۔ بابر خان نے کہا کہ جب تک مسائل کی جڑ ختم نہیں کی جائے گی مسائل ختم نہیں ہوسکیں گے۔کراچی عروس البلاد کہا جاتا تھا جسے اب لوٹا جارہا ہے۔ یہ شہر اونر شپ نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہورہا ہے۔ کراچی اور صوبے میں جن لوگوں کی حکومت ہے وہ کراچی کے مسائل سے ہی واقف نہیں اور نہ ہی وہ مسائل جاننا اور حل کرنا چاہتے ہیں۔ اصل معاملہ کراچی کو برباد کرنے والوں سے جان چھڑانا ہے، جن کیمروں سے چالان ہوتے ہیں ان کیمروں سے کرائمز کیوں ختم نہیں ہوتے۔ سعد زبیری نے کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو ٹھیک کرنے کے لیے کم از کم 20 سال کا عرصہ درکار ہے اور اس کے لیے بجٹ جتنا صوبے کا ہے اس سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس ایسے پروگرامات ہوں جہاں اسکول لیول پر ڈیزاسٹر سے نبٹنے کی ٹریننگ کرائی جائے یہ کام جماعت اسلامی کرسکتی ہے۔ فرحت عادل نے کہا کہ جب اپنے گھر میں کسی اور کو لاکر بٹھادیں گے تو وہ اونر شپ نہیں لے گا ،ہمیں خود کراچی کی اونر شپ لینے کی ضرورت ہے۔ بجٹ سندھ حکومت تک تو آجاتا ہے لیکن نچلی سطح پر سٹی گورنمنٹ تک نہیں آتا۔ کراچی کے لوگوں کے ڈومیسائل کے مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے ان کو سرکاری ملازمتیں نہیں دی جاتیں۔ شہر کی بہتری کے لیے میونسپل ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ اسلم خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی بہت اچھی کاوش ہے کہ اس نے کراچی کی بحالی کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا، جب بھی ملک میں آفات آئی تو کراچی کے صنعت کاروں نے سب سے زیادہ ساتھ دیا ہے۔ بد قسمتی سے کراچی اب رہنے کے قابل ہی نہیں رہا اور نہ ہی حالات کی بہتری کی امید نظر آتی ہے۔ سعد عبد الوہاب نے کہا کہ کراچی جو پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے صوبے کے بجٹ میں سے کراچی کے لیے صرف ڈیڑھ فیصد مختص کیا جاتا ہے۔ کراچی سے ہی ٹیکس وصول کرکے کراچی کو ہی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ منزہ صدیقی نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ کراچی کا معاشی حب ہونا ہے، مقتدر طبقات صرف کراچی کو ہڑپ کرنا اور مال کمانا چاہتے ہیں، ایسی صورت حال میں ہم سب کی ایک ہی آواز ہونی چاہیے، اگر ہم سب مل کر مطالبہ کریں گے تو مسائل حل ہوسکیں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مقامی ہوٹل میں ’’کراچی‘ بدحالی سے بحالی تک‘‘ کے عنوان سے ’’کراچی اسٹیک ہولڈرز رائونڈ ٹیبل کانفرنس‘‘ سے صدارتی خطاب کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی جماعت اسلامی ا جاتا ہے کراچی کو کراچی کی کراچی کا کراچی کے کی ضرورت نہیں ہے اونر شپ کے لیے

پڑھیں:

رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی

حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی