بنگلا دیش: بی این پی اور جماعت اسلامی کی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے عام انتخابات نے خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے موڑ کی خبر دی ہے۔ 2024 کی عوامی جدوجہد اور عوامی لیگ کی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد، جب شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کا تختہ الٹ گیا، یہ پہلے ایسے انتخابات ہیں جو ملک کو جمہوریت کی راہ پر واپس لانے کی نوید دے رہے ہیں۔ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی نگرانی میں ہونے والے ان انتخابات میں بنیادی مقابلہ بی این پی (بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم جماعتوں کے اتحاد کے درمیان ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی آگے ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی اتحادی جماعتیں حیران کن طور پر مضبوط کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور حتمی نتائج 13 فروری تک متوقع ہیں۔
بی این پی، جو طارق رحمن (خالدہ ضیا کے صاحبزادے) کی قیادت میں الیکشن لڑ رہی ہے، اس نے کرپشن، بے روزگاری اور سیاسی انتقام کے خلاف مہم چلائی۔ معتبر سروے جیسے ڈھاکا کی کمیونیکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق، کرپشن بنگلا دیشی ووٹرز کی سب سے بڑی تشویش ہے، شیخ حسینہ کی پیدا کردہ اسی کرپشن کی وجہ سے بنگلا دیش ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی شفافیت کی فہرست میں نیچے رہا ہے۔ بی این پی کو سعودی عرب، خلیجی ممالک اور مغربی کیمپس سے حمایت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اسے ووٹوں میں برتری مل رہی ہے۔ ابتدائی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ بی این پی کو 35-40 فی صد ووٹ ملا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور متوسط طبقے میں یہ بہت مقبول جماعت ہے۔ دوسری طرف، جماعت اسلامی کے 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے حیرت انگیز کارکردگی دکھائی ہے۔ اس اتحاد میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نمایاں ہے، جو 2024 کی جین زی (جنریشن زیڈ) طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے بنائی۔ دیگر بڑی جماعتیں شامل ہیں: بنگلا دیش اسلامی فرنٹ، اسلامی امن کانفرنس، خلق ایوبی مسلم لیگ، اور کئی چھوٹی مذہبی و قوم پرست جماعتیں۔ یہ اتحاد شہری علاقوں، خاص طور پر ڈھاکا، چٹاگانگ اور سلہٹ میں مضبوط ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس 70 سیٹیں ہیں، ڈی ڈبلیو اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، جماعت اسلامی 1971 کی آزادی کے بعد اپنی سب سے بڑی الیکٹورل کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ووٹ شئیر کے اعتبار سے انہیں 25-30 فی صد ووٹ ملے ہیں، جو شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کے باوجود ان کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ نیشنل ریفرنڈم میں بھی سیاسی اصلاحات، جیسے وزیراعظم کی مدتِ مدت کی حد، پر ووٹنگ ہوئی، جس میں اتحاد نے حمایت کی۔ عوامی لیگ کے حامیوں نے بائیکاٹ کی دھمکی دی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے ووٹرز نے بی این پی یا جماعت اسلامی کو ووٹ ڈالا، جس سے نتائج کی نہ صرف شرح متاثر ہوئی ہے بلکہ بی این پی کو کافی سپورٹ ملی ہے۔
بھارت نے بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں پر تنقید کی ہے، خاص طور پر جماعت اسلامی کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے۔ انڈین ایکسپریس اور ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارت کو خوشی اس بات کی ہے کہ جماعت اسلامی بی این پی سے پیچھے ہے، حالانکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اتحاد مضبوط اپوزیشن بن سکتا ہے۔ شیخ حسینہ، جو بھارت میں جلاوطن ہیں، نے کہا کہ ’’یہ انتخابات ملک کو متحد نہیں کر سکتے ان کا بائیکاٹ ہونا چاہیے‘‘۔ بھارت کی تشویش جماعت اسلامی کی مضبوطی سے ہے، کیونکہ یہ بھارتی مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں اسلام پسند گروہوں سے منسلک سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، معتبر تجزیہ کاروں جیسے الجزیرہ کے مطابق، یہ بنگلا دیش کی اندرونی سیاست ہے، اور بھارت کی مداخلت پسندی 2024 کی بغاوت کے بعد مزید نفرت بڑھا رہی ہے۔ الجزیرہ کی نشاندہی درست ہے کہ جماعت اسلامی اب ایک طاقتور اپوزیشن بن کر ابھر رہی ہے۔ اس کی وجہ شیخ حسینہ کا رویہ ہے، جس نے پاکستان نواز سمجھے جانے والی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیاں دی تھیں۔ اب 2024 کی بغاوت کے بعد جماعت نے طلبہ تحریک کو اپنے ساتھ شامل کرلیا ہے، جو اسے خطے کی دیگر جماعت اسلامی (جیسے پاکستان، بھارت یا ملائیشیا کی) سے زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ بی بی سی کے تجزیے میں کہا گیا کہ یہ ’’دنیا کا پہلا جین زی انسپائرڈ الیکشن‘‘ ہے، جہاں نوجوان ووٹرز نے تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
1971 کی آزادی کے بعد جماعت اسلامی نے حسینہ کے دور میں شدید ظلم و ستم تشدد اور بیجا دباؤ برداشت کیا۔ 2013-14 میں ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے، اور 1971 کے ’’غدار‘‘ کے الزام میں پھانسیاں ہوئیں۔ 2024 کی بغاوت نے یہ سلسلہ روک دیا۔ اب بی این پی اگر حکومت بناتی ہے تو طارق رحمن وزیراعظم بن سکتے ہیں، لیکن جماعت اسلامی کی 70 سیٹیں پارلیمنٹ میں توازن قائم رکھیں گی۔ ووٹوں کی تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی این پی کو 35-40 لاکھ ووٹ فی حلقہ، جبکہ اتحاد کو 25-30 لاکھ ملے۔ حتمی اعدادو شمار 13 فروری کو واضح ہوں گے۔ یہ انتخابات بنگلا دیش کی معیشت کے لیے بھی اہم ہیں۔ بے روزگاری، کرپشن اور سیلاب جیسے مسائل اقتدار میں انے والی سیاسی جماعت کو حل کرنے ہوں گے۔ اگر جماعت اسلامی اپوزیشن بنتی ہے تو پارلیمنٹ میں مذہبی ایجنڈا (جیسے شرعی قوانین) سامنے آئے گا، جو بھارت اور مغرب کو پریشان کرے گا۔ بھارت کی خوشی جماعت کی ’’ہار‘‘ پر ہے، لیکن حقیقت میں یہ اتحاد بی این پی کو چیلنج دے رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ مثبت ہے، کیونکہ جماعت کی مضبوطی شیخ حسینہ کی ’’پاکستان دشمنی‘‘ کو ختم کرے گی۔ خطے میں، یہ انتخابات بھارت کی بالادستی کو چیلنج کریں گے۔ اگر جماعت اسلامی طاقتور اپوزیشن بن جاتی ہے تو بنگلا دیش کی خارجہ پالیسی متوازن ہوگی، سعودی عرب اور پاکستان سے قربت بڑھے گی۔ الجزیرہ کے نقشے سے پتا چلتا ہے کہ جماعت دیہی اور شہری حلقوں میں متوازن ہے۔
نئی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابات بنگلا دیش کو مطلق العنانیت سے نکال کر جمہوریت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بی این پی کی برتری اور جماعت اسلامی کی قوت ایک متوازن پارلیمنٹ بنائے گی۔
بھارت کی تنقید میں اس کا وہ پچھتاوا جھلکتا ہے جو شیخ حسینہ کے اقتدار کے ختم ہونے کے بعد اسے ہو رہا ہے کیونکہ اب بھارت کا بنگلا دیش پہ کنٹرول مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، جبکہ بنگلا دیش میں پاکستان نواز عناصر کی واپسی خطے کی توازن بدل دے گی۔ اس تجزیے سے واضح ہے کہ بنگلا دیش کی سیاست اب نوجوانوں اور مذہبی قوتوں کے ہاتھ میں ہے۔ حتمی نتائج سے پتا چلے گا کہ کیا یہ تبدیلی دیرپا رہے گی۔ اور اس کے کیا کیا مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور جماعت اسلامی جماعت اسلامی کی بنگلا دیش کی یہ انتخابات بی این پی کو بی این پی ا اپوزیشن بن کے مطابق بھارت کی کہ جماعت کے بعد رہی ہے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔