Jasarat News:
2026-07-24@04:12:08 GMT

غزہ کا انسانی المیہ اورعالمی ضمیر کا امتحان

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی تباہی و بربادی کی خبریں ہم پچھلے تین سال سے مسلسل سنتے اور دیکھتے آئے ہیں۔ ٹی وی اسکرینوں پر جلتی عمارتیں، سوشل میڈیا پر معصوم بچوں کی تصویریں اور اخبارات میں شائع ہونے والی دل دہلا دینے والی رپورٹیں یہ سب کچھ ہمارے شعور کا حصہ تو بنتا رہا ہے، مگر شاید دل کی گہرائیوں تک کبھی نہیں اُتر سکا ہے۔ لیکن چند روز قبل پشاور کے ایک نجی اسپتال میں الخد مت فائونڈیشن کے تعاون سے زیر علاج غزہ سے آئے تین نوجوانوں سے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) میں بالمشافہ ملاقات اور ان سے ہونے والی گفتگو نے میرے لیے ان خبروں کو محض الفاظ یا کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بنا دیاہے۔ یوں لگا جیسے جنگ کے زخم میرے سامنے سانس لے رہے ہوں، جیسے انسانیت کی چیخیں خاموش کمروں میں گونج رہی ہوں۔

یہ تین فلسطینی نوجوان حسن الناصر، سید العامر اور عبد الرحیم قاسم اپنی عمروں کے اْس حصے میں ہیں جہاں خواب جوان ہوتے ہیں، جہاں مستقبل کے نقشے ذہن میں بنتے ہیں۔ حسن الناصر رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد میں بی ایس سافٹ ویئر انجینئرنگ کے طالب علم ہیں، سید العامر نے اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس کے بعد ہیلتھ کیئر مینجمنٹ میں ماسٹرز شروع کیا ہے، جبکہ عبد الرحیم قاسم غزہ اسلامی یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد اب رفاہ یونیورسٹی میں مینجمنٹ سائنسز میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے تعلیمی تعارف سے زیادہ ان کے زخم بولتے ہیں، عبد الرحیم اپنا بایاں بازو کھو چکے ہیں اور سید العامر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اپنے دائیں پاؤں سے محروم ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے معصوم اور پر عزم چہروں پر دور دور تک مایوسی کاکوئی نام ونشان نہیں تھا۔ ان کی گفتگو میں ایک عجیب سی روشنی اور خود اعتمادی تھی، جیسے وہ شکست کے بجائے زندگی کی نئی تعریف لکھنے نکلے ہوں۔ ان کا عزم دیکھ کر اسلامی تاریخ کے وہ نوجوان کردار معوذ اور معاذ یاد آ گئے جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا علم بلند کیا تھا۔ ان کی آنکھوں میں دکھ ضرور تھا مگر شکست نہیں، زخم ضرور تھے مگر ہمت زندہ تھی۔

یہ تین نوجوان دراصل پورے غزہ کی علامت ہیں۔ میڈیا میں ہمیں اکثر ایسے بچے دکھائی دیتے ہیں جو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان کھیلتے، مسکراتے اور زندگی کے حق میں اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تصاویر دنیا کے لیے شاید حیرت کا باعث ہوں مگر دراصل یہ اس قوم کی روحانی طاقت کی علامت ہیں جس نے دہائیوں کی آزمائشوں کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہی حوصلہ اسرائیل اور اس کے عالمی سرپرستوں امریکا، یورپ اور بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے کیونکہ نظریہ، ایمان اور اجتماعی شعور کو کسی میزائل سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ لیکن غزہ کی کہانی صرف مزاحمت اور حوصلے کی نہیں، بلکہ ایک ایسی سفاکی کی بھی ہے جس نے جدید جنگی تاریخ کو بھی شرما دیا ہے۔ حالیہ تحقیقی رپورٹوں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے معصوم، بے گناہ اور محصور لوگوں پر ایسے تھرمل اور تھرموبارک ہتھیار استعمال کیے ہیں جن کا درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے، اتنا شدید کہ انسانی جسم کو لمحوں میں راکھ یا بخارات میں بدل دے۔ غزہ کے شہری دفاع کے مطابق ہزاروں ایسے افراد کی دستاویزات موجود ہیں جن کی لاشیں تک نہیں مل سکیں بلکہ صرف خون کے دھبے یا جسم کے چھوٹے ٹکڑے باقی رہ گئے تھے۔

غزہ کی ایک ماں یاسمین مہانی کی داستان انسانیت کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ اپنے بیٹے سعد کو تلاش کرتی ہوئی ملبے کے ڈھیر پر بھٹکتی رہی۔ اسے مسجد کے فرش پر خون اور قیمہ شدہ گوشت کے نشانات تو ملے مگر بیٹے کا جسم نہ ملا۔ ایک باپ رفیق بدران نے اپنے چار بچوں کو کھو دیا، اسے صرف چند چھوٹے ٹکڑے دفنانے کے لیے مل سکے۔ یہ واقعات محض جنگی جرائم نہیں ہیں بلکہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب ہیں۔ تحقیقات میں MK-84, BLU-109 اور GBU-39 جیسے جدید بموں کا ذکر سامنے آیا ہے جن کی حرارت اور ویکیوم اثر نہ صرف انسانوں کو ہلاک کرتے ہیں بلکہ ان کے وجود کے نشانات تک مٹا دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ہتھیار جنگجو اور غیر جنگجو میں فرق نہیں کرتے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود عالمی طاقتیں اس سفاکی اور ظلم ودرندگی پر خاموش ہیں یا سیاسی مفادات کی وجہ سے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوتا ہے۔ ایک ایسا چہرہ جو خود کو دفاعی ریاست کہتا ہے مگر معصوم بچوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بناتا ہے۔ ایک ایسا چہرہ جو عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتا ہے مگر طاقتور اتحادیوں کی وجہ سے احتساب سے بچ جاتا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے احکامات، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے باوجود قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی نظام انصاف طاقتوروں کے سامنے بے بس ہے۔ اسرائیل کی پالیسی صرف فوجی حملوں تک محدود نہیں بلکہ معاشی محاصرے، خوراک اور ادویات کی بندش اور بنیادی سہولتوں کی تباہی تک پھیلی ہوئی ہے۔ جب پانی، بجلی اور طبی امداد تک روک دی جائے تو یہ جنگ نہیں بلکہ ایک قوم کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی قانونی ماہرین اسے محض تنازع نہیں بلکہ نسل کشی قرار دیتے ہیں، ایک ایسی نسل کشی جس میں ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک بھی اخلاقی اور قانونی طور پر شریک ہیں۔

اس تمام تاریکی کے باوجود امید کی کرن وہی نوجوان ہیں جن سے پشاور میں ملاقات ہوئی۔ عبد الرحیم کا ایک بازو کم ضرور ہے مگر اس کے خواب پورے ہیں۔ سید العامر ایک پاؤں کے بغیر بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ حسن الناصر اپنی تعلیم کے ذریعے آنے والے کل کی تعمیر کا عزم رکھتا ہے۔ یہ نوجوان ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ انسان کی روح میں ہوتی ہے۔ غزہ کی کہانی دراصل انسانیت کی کہانی ہے، ایک طرف جدید ٹیکنالوجی سے لیس سفاکی، دوسری طرف زخمی مگر مسکراتی انسانیت۔ شاید یہی تضاد ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے۔ اگر عالمی ضمیر اب بھی نہ جاگا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

آج ضرورت صرف ہمدردی کے بیانات کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جنگی جرائم کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے، مظلوموں کی آواز سنے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے۔ کیونکہ جب ظلم کو روکنے کے لیے دنیا خاموش رہتی ہے تو وہ خود بھی اس جرم میں شریک ہو جاتی ہے۔ پشاور میں زیر علاج وہ تین فلسطینی نوجوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ ظلم جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، انسان کی امید اس سے زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔ ان کی مسکراہٹیں، ان کا عزم اور ان کے خواب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے اور جب تک غزہ کے بچے ملبے پر بیٹھ کر ہنس سکتے ہیں، جب تک زخمی نوجوان تعلیم اور مستقبل کی بات کر سکتے ہیں، تب تک اُمید کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہی وہ پیغام ہے جو دنیا کو سننا ہوگا، ورنہ تاریخ کے کٹہرے میں صرف ظالم ہی نہیں بلکہ خاموش تماشائی بھی کھڑے ہوں گے۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سید العامر عبد الرحیم نہیں بلکہ کے باوجود ہیں بلکہ کے لیے اور ان غزہ کی

پڑھیں:

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔

فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔

رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔

ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف