لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)نجی نیوز چینل  کے صحافی اور اسلام آباد بیورو کے پروڈیوسر خرم اقبال کو سادہ لباس میں ملبوس افراد کے گھر سے لے جانے کے واقعے نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، انہیں کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔

خرم اقبال کے اہل خانہ کے مطابق انہیں اس وقت اٹھایا گیا جب وہ ہربنس پورہ کی صحافی کالونی میں اپنی بہن کے گھر موجود تھے، ان کے بہنوئی کا کہنا ہے کہ پندرہ سے بیس مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، جن میں سے بعض نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور خرم اقبال کو اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے وقت گھرمیں ان کی اہلیہ اور بیٹا موجود تھے۔واقعے کے کئی گھنٹوں تک کسی ادارے کی جانب سے خرم اقبال کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی، اس دوران صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہارکیا۔

 کروڑوں اربوں کے بے تحاشا اخراجات کے باعث کسان، مزدور، خواتین، وکلاء، پروفیسرز اور ڈاکٹرز کیلیے انتخابات میں حصہ لینا خواب بن کر رہ گیا ہے

بعد ازاں وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خرم اقبال لاپتا نہیں بلکہ انہیں پیکا کے تحت ایک مبینہ جعلی ویڈیو شیئر کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام قانون کے مطابق کیا گیا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہو کر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس سے قبل  اینکر عاصمہ شیرازی نے اپنے بیان میں پنجاب حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ اگر گرفتاری پیکا کے تحت کی گئی تو شکایت کب اور کہاں درج ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ دن ایک بجے سادہ لباس میں افراد گھر میں داخل ہوئے اور آٹھ گھنٹوں بعد سرکاری وضاحت سامنے آئی، جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے لیے تشویشناک قرار دیا۔سوشل میڈ پر ہلچل مچنے کے بعد صحافی خرم اقبال کو رہا کردیا گیا۔

 اگلے دن میں نہا دھو کر سکول میں داخل ہوا،طلباء کی طرف سے لقب یعنی ”اوہ نمونا جاندا اے“ بالکل فری حاصل کرلیا، سمجھوتے کے سوا چارہ نہ تھا

وہ لاپتا نہیں ہے،پیکا کے تحت فیک ویڈیو بنا کر ٹویٹ کرکے پھیلانے کے جرم میں زیر حراست ہے،یہ حرکت کونسی صحافتی اقدار ہے؟اور انکی ٹائم لائن چیک کریں وہ ایک پراپیگنڈا سیل کے ممبر تو ضرور ثابت ہوتے ہیں،صحافی تو نہیں کہہ سکتے،آپ سمجھتی ہیں یہ ملک جنگل بنا رہے جو جسکا دل کررہا ہے وہ… https://t.

co/VNATniXnK6

— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) February 13, 2026

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: خرم اقبال کو کے تحت

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل