data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ایپسٹین فائلز نے مغرب کا حقیقی شیطانی چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب کر دیا ہے جس سے تمام سیکولر، لبرل حلقوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ سندھ اسمبلی میں ایک اقلیتی رکن کے شراب کی خرید و فروخت پر پابندی لگانے کے مطالبہ کو مسلم اراکین کا رد کر دینا انتہائی شرم ناک ہے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں نے مغرب کے اعلیٰ اخلاقی اقدار کے بلند و بالا دعوؤں کے دجل کا پردہ چاک کر کے اُن کا اصل ابلیسی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایپسٹین فائلز چند افراد کی جنسی گراوٹ تک محدود نہیں بلکہ عالمی اشرافیہ کے اخلاقی، فکری اور تہذیبی زوال کی زندہ گواہی ہیں۔ ان فائلز نے مغرب، جو خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے، کے عمل کا پردہ چاک کر دیا ہے اور یہ حقیقت سب پر آشکار ہوگئی ہے کہ عملی طور پر وہ انسانیت کے بدترین استحصال میں ملوث ہے۔ ایپسٹین کا نیٹ ورک دراصل اشرافیہ کے اُس گٹھ جوڑ کی علامت تھا جس میں کمزور اور بے بس انسان خصوصاً انتہائی کم عمر بچیاں اِس شیطانی تہذیب کے لیے صرف تجارت اور استعمال کی اشیاء ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کی شان ہے کہ اُس نے رمضان المبارک سے قبل ہی جہاں دنیا بھر کے ’’ایپسٹینوں‘‘ کے لیے ایک وارننگ جاری کی ہے، وہیں اُمتِ مسلمہ کے ہر خاص و عام کو صہیونیوں کی عالمی ڈیپ سٹیٹ کے ابلیسی اور دجالی ایجنڈا سے بھی خبردار کر دیا ہے۔ اِن فائلز میں اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کو قائم کرنے والی تناظیم کو اپنے باطل نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، لہٰذا وحی کے ذریعے دیے گئے نظام سے ہی یہ تحفظ ممکن ہے۔ یہی الہامی نظام جب قائم و نافذ ہوگا تو باطل قوتوں کے ابلیسی مقاصد پر تیشہ بن کر گرے گا۔لاہور میں خواتین کی ایک معروف یونیورسٹی کی پرنسپل کا ایک تقریب میں کم بچے پیدا کرنے کا درس دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کیا.

ایپسٹین فائلز میں موجود تفصیلات کا عام ہو جانا پاکستان میں لبرل و سیکولر حلقوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں؟ سندھ اسمبلی کے ایک ہندو رکن کی جانب سے پاکستان میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی کے مطالبہ کو مسلم اراکین کے رد کر دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اِس ذلت آمیز واقعہ پر مسلمانان پاکستان کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ کیاسندھ اسمبلی کے مسلم اراکین کو معلوم نہیں کہ قرآن و سنت کی رُو سے شراب حرامِ قطعی ہے، جس کی خرید و فروخت پر پابندی لگانا پاکستان کی وفاقی اور صوبائی پارلیمان کا فرض ہے۔

جامشورو: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سندھ یونیورسٹی میں آئی ایم سی ایس ٹیک ایکسپو کے دوران طلبا کو شیلڈ دے رہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز کر دیا ہے ن فائلز کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟