عمران خان کی فیملی اور ڈاکٹرز سے ملاقات کروائی جائے،جاوید لطیف
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مسلم لیگ جاوید لطیف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فیملی اور ذاتی معالج کی فوری ملاقات کی حمایت کر دی۔سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کروائی جانی چاہیے ، کسی کی زندگی سے کھیلنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے، یہ کوئی جواز نہیں کہ کوئی بیمار ہو تو خوش ہوا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر بیرون ملک سے علاج کی اجازت دینی چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہہ دینا کہ 15 فیصد بینائی رہ گئی ہے یہ بھی مناسب نہیں ہے۔رہنما مسلم لیگ ن جاوید لطیف نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موصوف خود لوگوں کی بیماری کا مذاق اْڑایا کرتے تھے، کل کو کسی پر بھی کوئی مشکل وقت آسکتا ہے، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بانی سے ملاقات کروانی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم ہوں یا عام آدمی قانون سب کے لیے یکساں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی کو پہلے قید میں ایک دن میں 100 ، 100 لوگ تک ملتے رہے ہیں۔ اس وقت یہ ریاست کیخلاف سپر پاور کو اْکساتے رہے۔انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی کو سہولت کاری ڈے ون سے تھی اور اب بھی ہے، پاکستان مخالف شخصیات کی موصوف کو سپورٹ حاصل رہی اور اب بھی حاصل ہے، امریکا کے جب ٹرمپ صدر بنے تو اس وقت کیا باتیں ہو رہی تھیں ؟، فارن فنڈنگ کیس میں کن کن ممالک سے پیسہ لیا ؟ کتنا لیا ؟ اور کیوں پیسہ لیا گیا ؟۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر رہنما مسلم لیگ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف کا کوئی موازنہ نہیں ہے، جب بانی اسٹیج سے گرے تھے تو نواز شریف نے جلسے ملتوی کر دیے تھے۔ نواز شریف سے بنی گالہ کی روڈ بنانے کا کہا گیا اور وہ بن گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہنما مسلم لیگ بانی پی ٹی ا ئی جاوید لطیف نے کہا کہ انہوں نے کہ بانی
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔