WE News:
2026-07-23@23:29:09 GMT

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

2014 میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے دورِ حکومت میں ایسا ماحول پروان چڑھا ہے جہاں اختلافِ رائے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ہندوتوا نظریے پر تنقید کرنے والی آوازوں کو یا تو قید کے ذریعے خاموش کیا گیا یا تشدد کے ذریعے خوفزدہ کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی یونیورسٹی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں معروف مورخ پروفیسر سید عرفان حبیب پر اس وقت پانی سے بھری بالٹی انڈیل دی گئی جب وہ آرٹس فیکلٹی میں منعقدہ ’پیپلز لٹریچر فیسٹیول: سمتا اتسو‘ کے دوران طلبا سے خطاب کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

یہ پروگرام بائیں بازو سے وابستہ طلبا تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی کے سرکاری ادبی میلے کے متبادل کے طور پر منعقد کیا تھا۔

پروفیسر حبیب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے لگ بھگ 20 منٹ گفتگو کی ہوگی کہ اچانک میرے پیچھے دیوار کی جانب سے بالٹی بھر پانی پھینکا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ عمل پریشان کن اور چونکا دینے والا تھا، تاہم انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی، واقعے کی ویڈیو کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

مزید پڑھیں:

واقعے کے بعد اے آئی ایس اے نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم کے ارکان اس حملے میں ملوث تھے، تنظیم کے مطابق اے بی وی پی کے کارکنوں نے پانی پھینک کر اور نعرے بازی کرتے ہوئے تقریب میں خلل ڈالا جب پروفیسر عرفان حبیب خطاب کر رہے تھے۔

اے آئی ایس اے نے اس واقعے کو مساوات اور سماجی انصاف پر گفتگو کے لیے قائم پلیٹ فارم پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ سرکاری فیسٹیول کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے ’رجعت پسند پروپیگنڈے اور فرقہ وارانہ بیانیے‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، لہذا ’سمتا اتسو‘ کا مقصد سرکاری فیسٹیول کے مقابل ایک متبادل فراہم کرنا تھا۔

مزید پڑھیں:

بائیں بازو کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں معاشرے اور جامعات میں ذات پات کے مسائل سمیت اہم سماجی موضوعات پر گفتگو کی گئی، جب کہ انسدادِ ذات پات شاعری اور گیتوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

1953 میں پیدا ہونے والے سائنس کے مورخ اور دانشور پروفیسر عرفان حبیب نے اپنے خطاب میں ’تاریخی حذف‘ کی کوششوں کی نشاندہی کی اور مسخ شدہ تاریخ کو چیلنج کرنے میں جامعات کے کردار پر زور دیا۔

اس واقعے کے بعد دہلی یونیورسٹی میں کیمپس سیکیورٹی اور سیاسی ماحول سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ طلبا اور اساتذہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مقررین اور شرکا کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات موجود ہیں یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالٹی بی جے پی پروپیگنڈے پروفیسر عرفان حبیب پیپلز لٹریچر فیسٹیول دہلی یونیورسٹی رجعت پسند سائنس سرکاری فیسٹیول سماجی انصاف شاعری مساوات مورخ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالٹی بی جے پی پروپیگنڈے پروفیسر عرفان حبیب دہلی یونیورسٹی سرکاری فیسٹیول سماجی انصاف مساوات دہلی یونیورسٹی عرفان حبیب کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی