اسلام آباد، ڈھاکہ (نوائے وقت رپورٹ، آئی این پی) بنگلہ دیش میں ہونے والے تاریخی عام انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے 300  رکنی پارلیمنٹ میں 209  نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔ یہ انتخابات 2024  میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ بی این پی کے سربراہ اور وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار طارق رحمان نے اپنی نشست سے کامیابی حاصل کی۔ پارٹی نے کامیابی کے بعد کارکنان کو جشن منانے کے بجائے ملک کی بہتری کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ بی این پی کے منشور میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ جماعت کی قیادت میں اتحاد کو 68 نشستیں ملیں۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی شاندار انتخابی کامیابی پر طارق رحمان کو مبارکباد دی ہے۔ صدر مملکت نے پاکستان کے جمہوری شراکت داری اور باہمی ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ بنگلا دیش میں انتخابات جنوبی ایشیا کے لیے ماضی کے مراحل سے آگے بڑھنے کا ایک موقع ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم