امریکا ایران کیخلاف طویل فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، امریکی عہدیداروں کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں دو امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہوگی، اس بار حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کا جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا اور امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ پنٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر رہا ہے، ہزاروں فوجی، جنگی جہاز، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی مشرق وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، کیونکہ ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا مشکل رہا ہے، کبھی کبھی آپ کو ڈرنا پڑتا ہے، یہی واحد چیز ہے، جو صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دیتی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں، صدر ٹرمپ کسی بھی مسئلے پر مختلف نقطہ نظر کو سنتے ہیں، صدر ٹرمپ حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں، جو ملک اور قومی سلامتی کے لیے بہتر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہنا ہے کہ ایران کے فوجی اڈے کہ ایران کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔