محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی عارضی حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی یعنی بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کو 13ویں پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کی شاندار فتح پر مبارکباد دی۔
اپنے ایک رسمی پیغام میں، نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کے واضح مینڈیٹ کو سراہتے ہوئے انتخابی نتائج کو بنگلہ دیش کے جمہوری مرحلے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: انتخابی معرکے میں بی این پی کی برتری، طارق رحمان وزیراعظم بننے کے لیے تیار
انہوں نے کہا کہ ووٹرز کا صاف اور واضح فیصلہ آئینی تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یونس نے اعتماد ظاہر کیا کہ طارق رحمان کی حکمت، جمہوری اقدار اور عوامی فلاح و بہبود کے عزم کی بنیاد پر ملک ایک مستحکم، شامل اور ترقی پسند مستقبل کی طرف گامزن ہوگا۔
Yunus did a phenomenal job as a caretaker .
— Sam Khan (@SamKhan999) February 13, 2026
انہوں نے طارق رحمان کے والدین یعنی سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی سیاسی میراث کو بھی یاد کیا اور ان کے بنگلہ دیش کی سیاست پر اثرات کو اجاگر کیا۔
محمد یونس نے اقتصادی تبدیلی، تکنیکی ترقی، ماحولیاتی لچک، انسانی وسائل کی ترقی اور فعال علاقائی و بین الاقوامی سفارتکاری میں مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟
چیف ایڈوائزر نے امید ظاہر کی کہ طارق رحمان کی قیادت قومی اتحاد، جمہوری اصولوں، قانون کی حکمرانی اور جوابدہ حکومت کو مضبوط کرے گی۔
انہوں نے عارضی حکومت کے دوران طارق رحمان کے ’تعمیری کردار اور تعاون‘ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
محمد یونس نے مزید تعریف کی کہ طارق رحمان نے حساس تبدیلی کے اس دور میں جمہوری ماحول کو برقرار رکھنے، رواداری کا مظاہرہ کرنے اور آئینی عمل کا احترام کرنے میں مثبت رویہ اپنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش چیف ایڈوائزر خالدہ ضیا ضیا الرحمان طارق رحمان محمد یونس وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش چیف ایڈوائزر خالدہ ضیا ضیا الرحمان محمد یونس محمد یونس نے بنگلہ دیش بی این پی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔