کراچی ( نیوز ڈیسک) نئے ممکنہ وزیر اعظم طارق رحمن،جنوبی ایشیا اور دنیا پر نئےبنگلہ دیشی لیڈر کے اثرات، 60سالہ بی این پی رہنما معیشت اور سیاسی اتحاد کی بحالی کے لیےفوری اقدامات کریں گے، بھارت و امریکا کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی جائیگی۔امریکی جریدے ٹائم کی خصوصی رپورٹ کے مطابق طارق رحمن، جو 17 سال کی جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش واپس آئے، وزیر اعظم بننے کے قریب ہیں اور ان کی پارٹی BNP انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ طارق رحمن نے قانون کی حکمرانی مالی نظم و ضبط اور ملک کو متحد کرنے کو اپنی اولین ترجیحات قرار دیا ہے۔ وہ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پیدا شدہ سیاسی اور سماجی دراڑیں دور کرنے، معیشت کی بحالی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور بیرون ملک مقیم مزدوروں کی استعداد بڑھانے کے منصوبے رکھتے ہیں۔ علاقائی اور عالمی تعلقات کے لیے، وہ بھارت اور امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ ملک میں اسلام پسند جماعت جماعت اسلامی کی بڑھتی ہوئی سیاست کو متوازن رکھنے پر زور دیں گے۔ طلبہ اور نوجوان کارکنان کی حمایت کو شامل کرتے ہوئے، وہ بنگلہ دیش میں جمہوری حقوق اور اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان