اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کردی گئی۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بھی سزا معطل کرنے کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو میرٹ اور طبی بنیاد پر سزا معطلی کا کیس بنتا ہے، بانی پی ٹی آئی اپنی دائیں آنکھ کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں، آنکھ کی بیماری کی تشخیص پمز کے ڈاکٹر محمد عارف نے کی ہے۔

میزائل پروگرام ریڈ لائن، ایران نے اس پر کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار کی دائیں آنکھ خون کے لوتھڑے کے باعث شدید متاثر ہو چکی ہے، بیماری کے نتیجے میں دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، اس بیماری کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں، بانی پی ٹی آئی کی عمر 73 سال ہے، انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے ۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز آئندہ ہفتے مقرر کیے جائیں گے، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے مرض کے بعد جلد سماعت کی درخواست دائر کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی خاتون ہیں ان کو ایک سال سے ضمانت نہیں ملی، ہم نے درخواست کی ہے کہ پیر کے روز بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستیں مقرر کریں۔

ہڑپہ: کارگو ٹرین کا انجن الٹ گیا، بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی درخواست دائر توشہ خانہ ٹو کی درخواست

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری