شاہ رخ خان کی اہلیہ نے 100 سال پرانے آبائی گھر کو لگژری ریزورٹ بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ممبئی (ویب ڈیسک) بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان کی اہلیہ اور انٹیریئر ڈیزائنر گوری خان نے اپنے 100 سال پرانے آبائی گھر کو لگژری ریزورٹ میں تبدیل کر دیا جہاں ایک رات قیام کے چارجز 1 لاکھ 20 ہزار روپے تک ہو سکتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گوری خان ایک سپر سٹار کی اہلیہ ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھی ہے، خاص طور پر اپنے پیشے کے طور پر انہوں نے انٹیریئر ڈیزائنر کا کام جاری رکھا اور کئی مشہور شخصیات کے گھروں کو خوبصورت بنایا۔
انہوں نے منت میں بھی اپنی ہنر مندی کے جوہر دکھائے جہاں ان کے شوہر شاہ رخ خان اور بچے ان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، حال ہی میں انہوں نے ایک انتہائی ذاتی منصوبے پر کام شروع کیا اور اپنی 1933ء کی آبائی جائیداد کو دوبارہ تعمیر کرکے 6 بیڈرومز والا ولا بنایا جو ڈلہاؤسی میں واقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 100 سال پرانی خاندانی جائیداد اب ایک لگژری ریزورٹ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو عام لوگوں کیلئے پہاڑی مناظر کے ساتھ دستیاب ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں گوری خان بچپن میں اپنے خاندان اور کزنز کے ساتھ کئی موسم گرما کی تعطیلات گزارہ کرتی تھیں۔
گوری خان کی کزن رستم تیواڑی نے اس لگژری ریزورٹ کی تیاری میں ان کے ساتھ کام کیا، یہ گھر گوری خان کے ماموں تیجندر تیواڑی کی ملکیت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لگژری ریزورٹ گوری خان انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔