عثمان طارق ہمارا ٹرمپ کارڈ، کرکٹ اہم ہے ٹاس نہیں، سلمان آغا کی پاک بھارت ٹاکرا سے قبل پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں کل پاک بھارت ٹاکرا سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اسپنرز کا کردار اہم ہوسکتا ہے لیکن فاسٹ بولرز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ ممکن ہے کہ اسپنرز غالب آئیں، مگر ہمارے پاس اچھے فاسٹ بولرز بھی موجود ہیں۔ ٹیم کا ہر کھلاڑی ہمارے لیے برابر ہے۔ عثمان طارق اچھی بولنگ کر رہا ہے اور ہمارا ٹرمپ کارڈ ہے۔’
سلمان آغا نے کہا کہ پاک بھارت میچ ہمیشہ سے بڑے دباؤ کا حامل رہا ہے تاہم ٹیم نے بھرپور تیاری کی ہے۔ ‘ہم چاہتے ہیں کہ میچ اچھے جذبے کے ساتھ کھیلا جائے، جیسے ہمیشہ سے کھیلا جاتا رہا ہے۔ ٹاس میچ کا فیصلہ نہیں کرتا، اگر آپ اچھی کرکٹ کھیلیں گے تو جیت آپ کی ہوگی۔ کرکٹ اہم ہے، ٹاس نہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ٹیم نے کنڈیشنز سے خود کو ہم آہنگ کر لیا ہے اور پچ کے بارے میں آگاہی حاصل کر لی گئی ہے۔ ‘ہمیں 40 اوورز تک معیاری کرکٹ کھیلنا ہوگی۔’
بولنگ ایکشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عثمان طارق کو پہلے ہی آئی سی سی کی جانب سے کلیئر کیا جا چکا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آتی کہ اس حوالے سے دوبارہ بات کیوں ہو رہی ہے۔ ‘وہ ان باتوں کی پروا نہیں کرتا۔’
ماضی کے ریکارڈ کے حوالے سے سلمان آغا کا کہنا تھا کہ ‘ماضی اہم نہیں، کل نیا دن ہوگا۔ تاریخ نہیں بدلی جا سکتی مگر ہم اس بار اچھی کارکردگی دکھا کر جیتنے کی کوشش کریں گے۔’
انہوں نے بابر اعظمکے حوالے سے کہا کہ وہ ہمارے لیے تشویش کا باعث نہیں، وہ رنز بنا رہے ہیں اور امید ہے کہ کل بھی ٹیم کی مدد کریں گے۔ بیٹنگ پوزیشن میں زیادہ تبدیلی کا ارادہ نہیں۔
آخر میں انہوں نے بھارتی کھلاڑی ابھشیک شرما کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم موسم کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے، مگر امید ہے کہ ابھیشیک شرما مکمل فٹ ہوں گے۔ ہم بہترین ٹیم کے خلاف کھیلنا چاہتے ہیں۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ پی سی بی سلمان علی آغا کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ پی سی بی سلمان علی آغا کرکٹ نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔